1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر کی افریقہ میں مصروفیات

جرمن چانسلر انگیلا میرکل تین افریقی ممالک کے اپنے دورے کی دوسری منزل انگولا پہنچ گئی ہیں۔ وہ دارالحکومت لوآنڈا میں اقتصادی موضوع پر ایک کانفرنس کے افتتاح سے اپنے دورے کا آغاز کریں گی۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل منگل کی شب انگولا پہنچیں۔ چانسلر میرکل، جرمن۔انگولا اقتصادی کانفرنس کا افتتاح کریں گی، جس کے بعد انگولا کے صدر ژوزے ایدواردو دوش سنتش پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کا استقبال کریں گے۔ جرمن چانسلر کے پروگرام کے مطابق وہ میزبان صدر کے علاوہ وہ دیگر حکومتی نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گی۔ ساتھ ہی شہری حقوق کی تنظیموں اور ملکی اپوزیشن پارٹی ’UNITA‘ کے سربراہ سے ملاقات بھی ان کے شیڈیول میں شامل ہے۔

انگولا نے نومبر 1975ء میں پرتگال سے آزادی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد سے کسی بھی جرمن سربراہ حکومت کا انگولا کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل انگولا کے صدر فروری 2009ء میں برلن کا دورہ کر چکے ہیں۔ انگولا کا شمار تیل کی دولت سے مالا مال ممالک میں ہوتا ہے اور نائیجیریا کے بعد تیل کی برآمد کے حوالے سے براعظم افریقہ کا یہ دوسرا بڑا ملک ہے۔ اس کے علاوہ اس ملک میں معدنیات اور ہیروں کے بڑے ذخائر بھی پائے جاتے ہیں۔

José Eduardo dos Santos bei Angela Merkel

انگولا کے صدر فروری 2009ء میں برلن کا دورہ کر چکے ہیں

اسی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ انگیلا میرکل کے لیے کینیا سے زیادہ انگولا کی اہمیت ہے۔ جرمن میں اقتصادی شعبے کے ماہرین کے مطابق ’’چانسلر میرکل انگولا میں 24 گھنٹے بھی قیام نہیں کریں گی، لیکن اس دورے کی اہمیت بہت ہے‘‘۔

تاہم 27 سالہ خانہ جنگی کے بعد سے انگولا کی حکومت کو ملک میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا سامنا ہے۔ 2002ء میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور گزشتہ برس سے ہی ملک میں نیا آئین نافذ کیا گیا ہے۔ جرمن ذرائع کے مطابق چانسلر میرکل آج صدر ژوزے ایدواردو اور دیگر رہنماؤں سے ملاقاتوں میں بدعنوانی کے خاتمے، آزادی ء اظہار اور سلامتی جیسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کریں گی۔ گزشتہ برسوں کے دوران انگولا میں بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور ان میں چین سر فہرست ہے۔ جرمن چانسلر کینیا سے ہوتی ہوئیں انگولا پہنچی ہیں اور یہاں سے وہ نائیجیریا جائیں گی۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM