1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر میرکل کی پارٹی برلن میں بھی ہار گئی

جرمن چانسلر میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین برلن کے ریاستی انتخابات میں بھی اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی۔ سوشل ڈیموکریٹس سب سے آگے رہے جب کہ مہاجرین مخالف اے ایف ڈی اسمبلی میں داخل ہو گئی ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کو اٹھارہ فیصد ووٹ ملے ہیں، جب کہ آلٹرنیٹو فار جرمنی یا اے ایف ڈی نے بارہ اعشاریہ پانچ فیصدو ووٹ حاصل کیے ہیں۔ نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف نے ان اعداد و شمار کی تصدیق ایگزٹ پولز کے حوالے سے کی ہے۔

تاہم ریاست کی حکمران جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ( ایس پی ڈی) اس بار بھی بازی مارنے میں کامیاب رہی۔ انتخابات میں اس نے تئیس فیصد ووٹ حاصل کیے۔ یوں ایس پی ڈی کے سربراہ میشائل مُلر ایک مرتبہ پھر برلن کے میئر بن سکتے ہیں۔

میرکل کی سی ڈی یو کی خراب کارکردگی کی وجہ مہاجرین سے متعلق ان کی نرم پالیسیوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ان نتائج کو برلن میں سی ڈی یو کی اب تک کی سب سے بری کارکردگی قرار دیا جا رہا ہے۔

چار ستمبر کو شمالی مشرقی ریاست میکلن بُرگ ویسٹرن پومیرینیا میں ہونے والے صوبائی انتخابات میں بھی چانسلر انگیلا میرکل کی قدامت پسند جماعت دوسری کے بجائے تیسری پوزیشن پر چلی گئی تھی۔

میرکل نے اعتراف کیا تھا کہ وہ اپنی آبائی ریاست میں پارٹی کی شکست کی ’ذمے دار‘ ہیں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مہاجرین کے حوالے سے ان کی پالیسی درست تھی۔ میرکل نے کہا کہ آئندہ کی حکمت عملی کے لیے منصوبہ بنایا جائے گا اور عوام کا اعتماد جیت لیا جائے گا۔

DW.COM