1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر میرکل کی جماعت کی غیر معمولی کامیابی

جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے انتخابات کے پول جائزوں کے مطابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست دے دی ہے۔ اس پیشرفت کو میرکل کے سیاسی کیریئر کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے پول جائزوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) نے آبادی کے لحاظ سے جرمنی کی سب سے بڑی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے علاقائی انتخابات میں وہاں برسر اقتدار سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ( ایس پی ڈی) کو شکست سے دوچار کر دیا ہے۔ ستمبر کے وفاقی پارلیمانی انتخابات سے قبل اس صوبے میں میرکل کے قدامت پسند اتحاد کی اس کامیابی کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اہم جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے انتخابات

شلیسوِگ ہولسٹائن کے الیکشن، انگیلا میرکل کی ’بڑی جیت‘

چانسلر میرکل کا ’امتحان سے پہلے امتحان‘

چودہ مئی بروز اتوار منعقد ہوئے اس الیکشن کے پول جائزوں کے مطابق میرکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو کو تقریبا 33.7 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہوئی ہے جبکہ سوشل ڈیموکریٹس کو 31.1 فیصد ووٹ مل سکے ہیں۔ یہ اعدادوشمار پبلک براڈ کاسٹر اے آر ڈی نے جاری کیے ہیں۔ ووٹنگ ختم ہونے کے فوری بعد دیگر اداروں کی طرف سے جاری کیے گئے جائزوں کے مطابق بھی اس الیکشن میں میرکل کی سیاسی جماعت سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد اس اہم صوبے میں زیادہ تر سوشل ڈیموکریٹس ہی حکومت سازی کرتے رہے ہیں۔ اس صوبے میں سن دو ہزار بارہ میں منعقد ہوئے انتخابات میں بھی سوشل ڈیموکریٹک یونین کو 39.1 فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ کرسچن ڈیموکریٹک یونین صرف 26.3 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

اس الیکشن کے ابتدائی پول جائزوں کے مطابق تیسری سب سے بڑی سیاسی جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی (ایف ڈی پی) ثابت ہوئی ہے، جس نے تقریبا بارہ فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ اس ساتھ ہی مہاجر مخالف سیاسی جماعت اے ایف ڈی بھی 7.4 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ یوں دائیں بازو کی یہ سیاسی جماعت پہلی مرتبہ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی صوبائی اسمبلی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جائے گی۔

جرمن صوبہ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں اہل ووٹرز کی تعداد 13.2ملین ہے۔ اس صوبے کو ایس پی ڈی کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں اس سے قبل صرف ایک بار اس صوبے کی باگ ڈور سی ڈی یو کے ہاتھوں میں گئی ہے۔

DW.COM