1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن چانسلر میرکل کا دورہ روس اورکونڈولیزا رائس کا دورہ جارجیا

جرمن چانسلر میرکل نے جمعہ کے روز سوچی میں روسی صدر میدویدیف کے ساتھ ایک ملاقات کی جبکہ امریکی وزیر خارجہ رائس بھی فرانس کے بعد اب جارجیا میں ہیں تاکہ طبلیسی میں ریاستی قیادت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کرسکیں۔

default

سوچی میں چانسلر میرکل کی صدر میدویدیف کے ساتھ ملاقات کے موقع پر لی گئی ایک تصویر

انگیلا میرکل نے روس کے ساحلی تعطیلا تی شہر سوچی میں دیمیتری میدویدیف کے ساتھ اپنے مختصر دورہ روس کے دوران جمعہ کے روز جو ملاقات کی اس میں مطالبہ کیا گیا کہ ماسکو جارجیا کے مرکزی ریاستی علاقے سے اپنے فوجی دستے بلا تاخیر واپس بلائے۔

سوچی میں صدر میدویدیف کی گرمائی رہائش گاہ پر اس ملاقات کے بعد جرمن رہنما نے واضح طور پر کہا کہ قفقاذ کے حالیہ خونریز تنازعے میں روس کے چند اقدامات نامناسب حد تک شدید تھے۔ ساتھ ہی انگیلا مریکل نے یہ بھی کہا کہ جنوبی اوسیتیا اور جارجیا کے جنگ سے متاثرہ علاقوں تک بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو فوری رسائی حاصل ہونا چاہیے۔

جارجیا اور روس کے مابین تنازعے میں امریکہ اور یورپی یونین کے رکن چند دیگر ملکوں کی سوچ کے برعکس جرمن حکومت کا مئوقف یہ ہے کہ ماسکو کے ساتھ تصادم کا راستہ اپنانے اور روس پر عوامی بیانات میں تنقید کرنے کی بجائے اس تنازعے کو ماسکو کے ساتھ مکالمت کے ذریعے حل کیا جائے۔

یہی پیغام چانسلر میرکل نے سوچی میں صدر میدویدیف کو دیا اور اتوار کے روز جب وہ مختصر دورے پر جارجیا جائیں گی تو صدر میخائیل ساکاشویلی کے ساتھ بات چیت میں بھی انگیلا میرکل کا پیغام یہی ہوگا۔

Georgien USA Condoleezza Rice in Tiflis bei Michail Saakaschwili

صدر ساکاشویلی طبلیسی میں امریکی وزیر خارجہ رائس کی آمد پرمذاکرات سے قبل ان کا استقبال کرتے ہوئے

روسی صدر نے جرمن چانسلر کے ساتھ اپنی ملاقات میں قفقاذ کے تنازعے پر اظہار رائے کے علاوہ اس امر پر بھی زور دیا کہ روس کے بارے میں یورپی یونین کی سیاست پر یونین کے نئے رکن مشرقی یورپی ملکوں کی سوچ کا بہت زیادہ اثر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ عمل ماسکو کی برسلز کے ساتھ حقیقی شراکت داری کی راہ میں رکاوٹوں کا سبب بنے گا۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس بھی اب دورہ فرانس کے بعد جارجیا پہنچ چکی ہیں جہاں طبلیسی میں اپنے مزاکرات میں وہ کوشش کریں گی کہ فرانس کی مدد سے روس اور جارجیا کے مابین طے پانے والی فائر بندی کوباقاعدہ جنگ بندی معاہدے کی شکل دی جائے۔ امریکی وزیر نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ وضا حت ہوگی کہ جارجیا کے مفادات کا بہر‌حال مکمل تحفظ کیا جائے گا۔

اسی حوالے سے کونڈولیزا رائس نے فرانس میں کہا تھاکہ روسی صدر کہہ چکے ہیں کہ فوجی آپریشن ختم ہوگئے ہیں اور امریکہ امید کرتا ہے کہ وہ واقعی اپنے اس بیان پر قائم رہیں گے۔

اس کےبرعکس قفقاذ کے علاقے سے متعلق روسی صدر میدویدیف کا مئوقف بھی بہت واضح ہے۔ ان کے بقول ماسکو ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا کے عوام کے ہر فیصلے کی حمائت کرے گا۔

DW.COM