1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر منگولیا میں، رہنماؤں سے ملاقاتیں

جرمن چانسلر انگیلا میرکل ویت نام کا دورہ مکمل کرنے کے بعد منگولیا پہنچ چکی ہیں، جہاں آج وہ دارالحکومت الان بطور میں مقامی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔

default

منگولیا میں میرکل کا استقبال

انگیلا میرکل، جمعرات کو منگولیا کے صدر Tsakhia Elbegdorj اور وزیر اعظم Sukhbaatar Batbold سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ الان بطور پہنچنے سے قبل میرکل نے کہا: ’’منگولیا خام مال اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے اور ہمارے لیے اس شعبے میں تعاون بہتر بنانے کا بہت اچھا موقع ہے۔‘‘

قبل ازیں وہ بدھ کو ویت نام کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ایک روزہ دورے پر منگولیا پہنچیں تو میزبان ملک کے صدر Tsakhia Elbegdorj نے دارالحکومت کے چنگیز خان انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرمن کمپنیوں نے منگولیا میں نایاب معدنیات کے لیے معاہدوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جو آئی پوڈز، ماحول دوست کاروں، پوّن چکیوں اور میزائلوں کی تیاری میں اہم ہیں۔

یہ ایشیائی ریاست اپنے وسیع تر وسائل کے لیے غیرملکی سرمایہ کاروں پر دروازے کھول رہی ہے۔ منگولیا کو امید ہے کہ بیرونی سرمایہ کاروں پر وسائل کے دروازے کھولنے سے شرح نمو میں تیزی آئے گی جبکہ غربت کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ خیال رہے کہ منگولیا معدنی دولت میں مالا مال ہونے کے باوجود ایک پسماندہ ملک ہے۔

Bundeskanzlerin Merkel in Vietnam

میرکل نے منگولیا سے پہلے ویت نام کا دورہ کیا

منگولیا کے ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار Bat Khurtsکو ایک مشتبہ شخص کے اغوا کے شبے میں برطانیہ سے جرمنی منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم اے ایف پی کے مطابق الان بطور میں موجود جرمن سفارت کاروں نے یہ نہیں بتایا کہ چانسلر اس پہلو پر بات کریں گی یا نہیں۔

اس سکیورٹی اہلکار کو گزشتہ ماہ رہا کیا گیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے مئی دو ہزار پانچ میں قتل کے ایک مشتبہ ملزم کو جرمنی سے کو اغوا کیا تھا، جو منگولیا کا شہری تھا۔

میرکل نے حالیہ دورہ ایشیا ویت نام سے شروع کیا تھا۔ کسی جرمن چانسلر کی جانب سے منگولیا کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔ میرکل سابق امریکی صدر جارج بش کے بعد صنعتی ملکوں کے گروپ جی سیون کی منگولیا جانے والی پہلی رہنما ہیں۔ بش دو ہزار پانچ میں وہاں گئے تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل / اے ایف پی

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات