1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن چانسلر بھارت میں انسانی حقوق کے لیے کھڑی ہوں، پیپلز واچ

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک انتہائی اہم تجارتی دورے پر پیر کو جرمنی پہنچیں گے۔ ایسے میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے جرمن چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا جائے۔

بھارت میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم پیپلز واچ نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران بھارت میں عام شہریوں اور اقلیتوں کے خلاف ہونے والے ظلم و ستم پر بھی بات کریں۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم اس تنظیم کے بانی اور گزشتہ برس ایمنسٹی انٹرنیشنل کا ایوارڈ حاصل کرنے والے ہنری ٹیفائن کا جرمن دارالحکومت برلن میں کہنا تھا، ’’ہم بہت دباؤ میں ہیں اور جمہوریت کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔‘‘

ہنری کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت کا محدود ہونا جرمن سرمایہ کاروں کے حق میں بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمپنیوں کو بھی انسانی حقوق کے خلاف کوئی اقدام اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

’بھارتی زیر انتظام کشمیر میں سوشل میڈیا پر پابندی ختم کی جائے‘

بھارتی وزیراعظم پیر کے روز جرمن دارالحکومت برلن پہنچیں گے اور منگل کے روز ان کی جرمن حکام کے ساتھ ملاقات ہو گی۔ ہنری کے مطابق بھارت میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ کئی تنظیموں کے اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں اور کئی ایک کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی رپورٹیں بھی ہیں۔

برلن میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران اُن کا کہنا تھا کہ سن دو ہزار بارہ سے ان کی تنظیم پر بھی بیرونی امداد حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

بھارتی وزارتِ داخلہ نے پیپلز واچ پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ اس نے امریکا اور برطانیہ کو معلومات فراہم کی ہیں۔ ان کا تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت میں ایک طرف تو سول سوسائٹی کے لیے جگہ کم ہو رہی ہے اور دوسری طرف حکومت خود کو ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ قرار دیتی ہے۔

پیپلز واچ کا شمار بھارت میں انسانی حقوق کی اہم ترین تنظیموں میں ہوتا ہے۔

DW.COM