1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مقبولیت میں کمی

جرمنی میں رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق چانسلر انگیلا میرکل کی مقبولیت کا گراف گزشتہ تین برس کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ عوام کی اکثریت میرکل حکومت کی جانب سے ٹیکس کٹوتی کے منصوبوں کے بھی خلاف ہے۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

ٹیلی ویژن ARD کی جانب سے کرائے گئے اس جائزے کے نتائج جمعہ کو جاری کئے گئے۔ نتائج کے مطابق 77فیصد افراد میرکل کے دوسرے دورِ اقتدار کے ابتدائی عرصے سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس عرصے میں انہیں افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جرمنی کے کردار، ٹیکسوں اور پولینڈ کے ساتھ تعلقات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

گزشتہ برس کے آخری مہینے کی نسبت جرمن چانسلر کی مقبولیت اب 11 پوائنٹ نیچے آ گئی ہے۔ تازہ سروے کے مطابق اب صرف 59 فیصد جرمن شہری ہی ان کی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور دسمبر 2006ء کے بعد سے ان کی مقبولیت کا یہ کم ترین تناسب ہے۔ گزشتہ سات سال میں ایک ماہ کے دوران کسی چانسلر کی مقبولیت کے گراف میں کمی کا یہ پہلا موقع ہے۔

سروے کے مطابق 66 فیصد کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد تقسیم کا شکار ہے اور اپنی منزل سے آگاہ نہیں۔ 82 فیصد کا مطالبہ ہے کہ میرکل واضح قیادت کا مظاہرہ کریں۔

دوسری جانب نائب چانسلر اور وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلے کی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے۔ فری ڈیموکریٹس کے اس رہنما نے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں سات پوائنٹ کھو دیے ہیں اور اب 36 فیصد پر کھڑے ہیں۔

چانسلر انگیلا میرکل کی کرسچن ڈیمویٹک یونین اور اس کی اتحادی جماعتوں، کرسچن سوشل یونین اور فری ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان اصل تنازعہ ٹیکسوں میں کٹوتی ہے۔ یہاں تک کے اقتصادی امور پر حکومت کے اپنے ہی مشیروں نے اس حوالے سے منصوبوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ARD میں رائے عامہ کے جائزوں کے شعبے کے سربراہ یوئرش شوئنن بورن کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں میں کٹوتی کے تنازعے کے دیکھتے ہوئے، اس سروے نے عوامی جذبات کی حیرت انگیز لیکن درست ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی اکثریت ٹیکسوں میں کٹوتی کے حق میں نہیں ہے۔

حکومتی اتحاد میں شامل جماعت FDP اس منصوبے کی سب سے بڑی حامی ہے۔ تاہم رائے عامہ کے تازہ جائزے

Guido Westerwelle Ankara Türkei Deutschland Flash-Galerie

جرمن وزیر خارجہ گیڈوویسٹرویلے

میں شامل ایک ہزار افراد میں سے اسی جماعت کے بیشتر حامیوں نے منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے میں سے 69 فیصد نے بھی آئندہ برس ٹیکسوں میں کٹوتی کی مخالفت ہی کی ہے۔

یوئرش شوئنن بورن اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ حکومتی قرضے ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں اور ٹیکسوں میں کمی کرنے سے مالیاتی بحران خطرناک رُخ اختیار کر سکتا ہے۔

دُنیا میں بااثر خواتین سے متعلق فوربس میگزین کی فہرست پر انگیلا میرکل سرفہرست ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM