1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا دورہ چین اختتام پذیر

اگرچہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے دورہ چین کے دوران زیادہ تراقتصادی اور تجارتی مسائل پر مذاکرات جاری رہے لیکن اس کے باوجود چین اور جرمنی کے درمیان کوئی بڑا تجارتی معاہدہ نہیں ہوا۔

جرمن چانسلر چینی صدر ہوژن تاﺅ کے ساتھ

جرمن چانسلر چینی صدر ہوژن تاﺅ کے ساتھ

جرمن چانسلر Angela Merkel نے آج اپنے دورہ چین کے آخری روز شنگھائی کے کیتھولک بش اپ سے ملاقات کی ہے جس میں انسانی حقوق کے مسئلے کو بنیادی حیثیت حاصل رہی۔ میرکل نے کیتھولک کلیسا کے نوے سالہ بش اپ Jin luxianسے آدھے گھنٹے تک ملاقات کی۔ البتہ کیتھولک چرچ کا کہ جس کو حکومت کی حمایت حاصل ہے نہ تو واٹیکان سے کوئی رابطہ ہے نہ ہی رومن کیتھولک چرچ کے ساتھ۔

اس ملاقات میں Jin Luxian نے بھی ایک طویل عرصے تک چین کی مختلف جیلوں میںاپنی قید و بند کی صعوبتوں کا تذکرہ کیا،جبکہ جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے مسئلے کی طرف بھی چینی وزیر اعظم Wen Jiabao کی توجہ دلائی ہے۔

جرمن چانسلر نے گزشتہ روز چینی رہنماﺅںکی انٹرنیٹ کو محدود کرنے کی پالیسی اور تبت کی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا اورآج اپنے دورہ کے اختتام پر جرمن چانسلر نے چین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نہایت محتا ط انداز میں اشارہ کیا۔

انہوں نے کہا میرے خیال میں چینی حکام نے بڑے غور سے انسانی حقوق کے مسئلے کو سنا ہے لیکن ہمیں اس سلسلے میں ان سے مزید گفتگو کرنا پڑے گی۔ اگرچہ جرمن چانسلر انگلا میرکل کے دورہ چین کے دوران زیادہ تراقتصادی اور تجارتی مسائل پر مذاکرات جاری رہے لیکن اس کے باوجود چین اور جرمنی کے درمیان کوئی بڑا تجارتی معاہدہ نہیں ہوا۔

البتہ دونوں ممالک کے درمیان Copy Right ، مواصلات اور بعض دوسرے شعبوں میں معاہدے ضرور ہوئے ہیں۔ اس موقع پر سب سے بڑا معاہدہ سینکڑوں ٹرینوں کی تیاری سے متعلق انجام پایا ہے جس کی مالیت جرمن حکام کے مطابق 387 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

چین اور جرمنی کے درمیان ایک ایسے معاہدے پر بھی دستخظ ہوئے ہیں جس کے تحت کپڑوں پر جعلی لیبل لگانے والے چینی صنعت کاروں کے لئے جرمنی کے تجارتی میلے اور فیشن شو میں شرکت پر پابندی عائد ہو جائے گی۔تاہم دنوں ممالک کے درمیان چین کی نہایت تیز رفتار Magnetic Train Network میں توسیع کے معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی ہے۔

جرمنی کی دو بڑی کمپنیوں ThyssenKrupp اور Siemens نے مل کر شنگھائی میں موجودہ Magnetic ٹرین بنائی تھی جو دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد مقناطیسی ٹریک بھی ہے۔

مارچ کے مہینے میں جرمنی اور چین کے درمیان ابتدائی طور پر اس ریلوے لائن میں توسیع کا ایک معاہدہ طے پایا تھالیکن بظاہر جرمنی نے اس سلسلے میں چین کی شرائط کو پسند نہیں کیا ہے کہ جن میں سے ایک چین کی طرف سے ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔