1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر انگیلا میرکل امریکہ میں

دوبارہ چانسلر منتخب ہونے والی انگیلا میرکل ایک سرکاری دَورے پر امریکہ پہنچ گئی ہیں، جہاں وہ آج منگل کو امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ ملاقات کے علاوہ کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کریں گی۔

default

میرکل سے پہلے یہ اعزاز سن 1957ء میں اُس وقت کے وفاقی جرمن چانسلر کونراڈ آڈیناؤئر کو ملا تھا۔ میرکل کے خیال میں یہ اعزاز ظاہر کرتا ہے کہ ا مریکہ جرمنی کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔ تاہم امریکہ اِس اعزاز کے بدلے میں یہ چاہتا ہے کہ جرمن حکومت اب تک کے مقابلے میں خارجہ سیاسی سطح پر زیادہ ذمہ داریاں سنبھالے۔

امریکہ روانگی سے پہلے اپنے ہفتہ وار پوڈ کاسٹ پیغام میں میرکل نے کہا کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں سے خطاب ایک بڑا اعزاز ہے اور اِس موقع پر وہ اُس حمایت کے لئے شکریہ ادا کریں گی، جس کا اظہار دیوارِ برلن کے خاتمے کے گیارہ مہینے بعد سن 1990ء میں دونوں جرمن ریاستوں کے اتحاد کے موقع پر امریکہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ تاہم چانسلر میرکل کے اِس دورے کے موقع پر افغانستان، ایران، مالیاتی منڈیوں کے لئے ضوابط اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے متعدد مسائل پر بھی تبادلہء خیال کیا جائے گا۔

جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، نیٹو کے دائرہء کار میں اپنے چار ہزار چار سو سپاہیوں کے ساتھ جرمنی سب سے زیادہ فوجی فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے تاہم جرمن پارلیمان نے اِن دَستوں کوسرگرمِ عمل کرنے کے امکانات محدود بنا رکھے ہیں۔

US Senat Obama

انگیلا میرکل امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کریں گی۔

جرمن فوجی دستے اپنا دفاع کر سکتے ہیں لیکن اُنہیں آگے بڑھ کر حملہ کرنے کی اجازت نہیں ۔ اِسی طرح جرمن فوج کے جنگی طیارے فضائی جاسوسی کے سلسلے میں تو مدد فراہم کرتے ہیں لیکن اُنہیں کسی جنگی کارروائی میں معاونت کی اجازت نہیں ہے۔

واشنگٹن میں جرمن مارشل فنڈز کی ٹرانس اٹلینٹک اکیڈمی کے ڈائریکٹر سٹیفن ژابو کے مطابق امریکہ بلاشبہ افغانستان میں جرمنی کے زیادہ سرگرم کردار کے لئے زور دے گا:’’امریکی حکومت یہ چاہے گی کہ جرمن فوج کے مشن پر عائد کی گئی حدود ختم کر دی جائیں اور جرمنی یہ بات تسلیم کر لے کہ افغانستان میں محض ترقیاتی امداد کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہاں ایک باقاعدہ جنگی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔‘‘

اِس کے علاوہ اگر جرمنی گوانتانامو کے ایک یا ایک سے زیادہ قیدیوں کو اپنے ہاں قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کر دیتا ہے تو علامتی اعتبار سے یہ ایک اہم قدم ہو گا اور اِس سے صدر اوباما کو اپنا وہ وعدہ پورا کرنے میں مدد ملے گی، جو اُنہوں نے صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد اِس امریکی حراستی کیمپ کو ایک سال کے ا ندر اندر بند کرنے کے حوالے سے کیا تھا۔ سٹیفن ژابو اِس حوالے سے کہتے ہیں:’’امریکی صدر کے لئے گوانتانامو کے زیادہ تر قیدیوں کو امریکی سرزمین پر لے کر جانا مقابلتاً زیادہ آسان ہو گا، اگر وہ یہ دکھا سکیں کہ امریکہ کے حلیف ممالک نے بھی کچھ بوجھ بانٹا ہے۔‘‘

امریکہ-روس تعلقات کے ایک نئے باب کے آغاز کے سلسلے میں بھی جرمنی ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے تاہم جرمنی کے روس کے ساتھ قریبی معاشی تعلقات کو امریکہ میں زیادہ اچھی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا۔ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے سابقہ مشیر برائے سلامتی امور زبگنیعیف براژِنسکی روس کو بہت زیادہ مراعات دینے سے خبردار کرتے ہوئےکہتے ہیں

Bundeswehrsoldat der ISAF ist in Attacke in Afghanistan getötet

افغانستان کے لئے نیٹو کے دائرہء کار میں اپنے چار ہزار چار سو سپاہیوں کے ساتھ جرمنی سب سے زیادہ فوجی فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے

:’’ہم روس کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن ہم ایسے تعلقات نہیں چاہتے، جن کے نتیجے میں ہمیں اُن کامیابیوں سے ہاتھ دھونا پڑیں، جو سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ یوکرائن، سفید روس، جارجیا یا پھر وَسطی ا ور مشرقی یورپ کو کسی بھی طرح نقصان اٹھانا پڑے۔‘‘

آج واشنگٹن میں میرکل کے مذاکرات میں ایران پر بھی بات ہو گی۔ ایران کے ساتھ بھی جرمنی کے بہت قریبی معاشی تعلقات ہیں اور گذشتہ کچھ عرصے میں آنے والی کمی کے باوجود باہمی تجارت کا حجم کئی ارب یورو بنتا ہے۔ یورپی یونین میں جرمنی ایران کو مصنوعات برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن چونکہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والے مذاکرات میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے ساتھ ساتھ چھٹے ملک کے طور پر جرمنی بھی شرکت کرتا ہے اِس لئے جرمنی کو ضرورت پڑنے پر نہ صرف ایران کے خلاف پابندیو ں کی حمایت کرنا ہو گی بلکہ خود اپنے ہاں بھی اُن پابندیوں کو عملی شکل دینا ہو گی۔

واشنگٹن میں جرمن مارشل فنڈز کی ٹرانس اٹلینٹک اکیڈمی کے ڈائریکٹر سٹیفن ژابوکہتے ہیں: ’’جرمنوں کو جان لینا چاہیے کہ امریکہ اب بدل چکا ہے۔ امریکہ پہلے سے کمزور ہو گیا ہے۔ یہ نیا امریکہ اپنے فیصلوں میں پہلے سے کہیں زیادہ محتاط ہے اور پہلے سے کم ذمہ داریاں سنبھالنے پر آمادہ ہے۔ ایسے میں مسائل پر قابو پانے کے لئے اُسے یورپ میں مضبوط ساتھی ملکوں کی ضرورت ہے۔‘‘

سیفن ژابو کے خیال میں جرمنی کو امریکہ کے ایک مضبوط حلیف کے طور پر ابھر کر آگے آنے میں زیادہ دیر نہیں کرنی چاہیے اور اُس کی وجہ یہ ہے کہ امریکیوں میں برداشت کا مادہ ذرا کم ہی ہے۔

رپورٹ : امجد علی

ادارت : شادی خان