1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر انگیلا میرکل امریکہ میں

امریکہ کے دَورے پر گئی ہوئی وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل اب سے چند گھنٹے بعد واشنگٹن میں صدر جورج ڈبلیو بُش کے ساتھ ملاقات کرنےوالی ہیں۔ اِس سربراہ ملاقات میں ایران کے ایٹمی تنازعے کو مرکزی موضوع کی حیثیت حاصل رہے گی۔ ایک جائزہ

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی اِس سال جنوری میں امریکہ کے پہلے دَورے کے موقع پر صدر بُش کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی اِس سال جنوری میں امریکہ کے پہلے دَورے کے موقع پر صدر بُش کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

پانچ مہینے پہلے جرمنی کی وفاقی چانسلر بننے کے بعد سے انگیلا میرکل کا امریکہ کا یہ دوسرا دَورہ ہے۔ دو روز کے اِس دَورے کے آغاز پر وہ اب سے کوئی سات گھنٹے بعد وائٹ ہاﺅس میں امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش کے ساتھ ملاقات کرنے والی ہیں۔ اِس ملاقات میں دو طرفہ امور کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فلسطینی تنازعے، عراق کی تازہ صورتِ حال اور سوڈان میں قیامِ امن کے لئے جاری مذاکرات بھی زیرِ بحث آئیں گے لیکن ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کو غالباً مرکزی موضوع کی حیثیت حاصل ہو گی۔

بُش میرکل ملاقات سے پہلے ہی امریکی حکومت کی جانب سے برلن کے ساتھ اشترکِ عمل کو بہت موثر قرار دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاﺅس کے ایک سرکردہ عہدیدار کے مطابق گذشتہ چند مہینوں کے دوران برلن اور واشنگٹن حکومتوں کے مابین تعلقات میں بہت زیادہ سرگرمی دیکھنے میں آئی ہے۔ مزید یہ کہ تہران حکومت کے حوالے سے میرکل اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور وہ اِس طرح کہ وہ ایران کی جانب مغربی دُنیا کے کسی مشترکہ لائحہ عمل پر زور دے رہی ہیں۔

میرکل نہیں چاہتیں کہ عراق تنازعے کی طرح بین الاقوامی برادری ایک بار پھر تقسیم ہو جائے۔ ایران کی جانب کوئی مشترکہ لائحہ عمل ہی میرکل کی روسی صدر ولادی میر پوٹین اور بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں میں بھی موضوعِ بحث رہا۔

امریکہ کی اِس دھمکی کے پیشِ نظر کہ ضرورت پڑنے پر وہ ایران کے خلاف اکیلے بھی اقدامات کر سکتا ہے، جرمنی کی اپوزیشن جماعتوں نے چانسلر میرکل پر زور دیا ہے کہ وہ بُش کے ساتھ ملاقات میں ایران کے سلسلے میں ایک واضح مَوقِف اختیار کریں۔

وَزارتِ خارجہ میں اسٹیٹ سیکریٹری Gernot Erler نے کہا کہ ویٹو طاقتوں روس اور چین کی وجہ سے ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیوں کا امکان بہت کم ہے۔

اپوزیشن گرینز کے چیئرمین رائن ہارڈ Bütikofer نے کہا، بُش حکومت پر یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ اِس تنازعے کو محض اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے IAEA ہی کے دائرے میں حل کیا جانا چاہیے۔

وفاقی جرمن پارلیمان میں بائیں بازو کی جماعت Linkspartei کے چیئرمین اَوسکر لافونتین نے کہا، بُش کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ ایران کے خلاف کسی جنگی کارروائی کی صورت میں جرمنی نہ تو اپنی فضائی حدود اور نہ ہی جرمن سرزمین پر قائم امریکی فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔

آج رات بُش کے ساتھ ملاقات کے بعد عشائیے پر انگیلا میرکل امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس اور دیگر سرکردہ امریکی قائدین کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گی۔ کل جمعرات کے روز جرمن چانسلر مختصر دَورے پر نیویارک جائیں گی، جہاں وہ امریکی اور جرمن کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقات کریں گی جبکہ کل واپس جرمنی کے لئے روانہ ہونے سے پہلے وہ امریکی یہودی کونسل AJC کے قیام کی ایک سَووِیں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کریں گی۔