1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر آج امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کریں گی

جرمن چانسلر انگیلا میرکل آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کر رہی ہیں۔ میرکل گزشتہ منگل کو امریکا پہنچنے والی تھیں لیکن اُن کے دورے کو ایک طوفان کی وجہ سے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل آج آج جمعہ سترہ مارچ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کریں گی۔ امریکی صدر کے اوول آفس میں ہونے والی اس ملاقات میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو، روس اور عالمی تجارت کے معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات زیر بحث آ سکتے ہیں۔

 ٹرمپ نے خاص طور پر نیٹو کو اپنی انتخابی مہم میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور وہ اس مناسبت سے اپنے وزیر دفاع کی پیش کردہ تجاویز کا مثبت ردعمل دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس میٹنگ کو دونوں ملکوں کے لیے انتہائی اہم اور دور رس نتائج کی حامل قرار دیا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی صدر روس کے بارے میں چانسلر میرکل کے خیالات یقینی طور پر سننے کے خواہشمند ہیں۔

Angela Merkel und Donald Trump (picture-alliance/dpa/M. Kappeler/R. Sachs)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل

میرکل کے قریبی حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ وہ اس میٹنگ کے دوران انتہائی محتاط انداز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختلافی معاملات پر گفتگو کریں گی۔ اس دوران وہ انہیں یورپی یونین کے ساتھ مضبوط تعلقات کے علاوہ ماحولیاتی  تبدیلیوں کے لیے عالمی کوششوں کا حصہ بننے پر قائل کریں گی۔ جرمنی کے قدامت پسند رکن پارلیمنٹ ژؤرگن ہارڈٹ (Juergen Hardt) کا خیال ہے کہ میرکل اپنی ماہرانہ اندازِ گفتگو سے ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف معاملات پر قائل کر سکتی ہیں۔

میرکل کے وفد میں صنعتی گروپ سیمینز کے سربراہ جو کیزر اور کار ساز ادارے بی ایم ڈبلیو کے سربراہ ہارالڈ کرُوگر بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جرمن چانسلر یہ وفد ایسے وقت پر امریکا لے گئی ہیں جب ٹرمپ نے ’پہلے امریکا‘ کا نعرہ بلند کر رکھا ہے اور امریکی مال کی کھپت ان کی اولین ترجیح ہے۔ دونوں لیڈروں کے سیاسی نظریات میں بھی بظاہر ’اپروچ‘ کا فرق ہے۔ میرکل عالمی امور میں تعاون اور کثیر الجہتی انداز کی حامی ہیں جب کہ امریکی صدر اس تناظر میں امریکی قوت کا سکہ جمانے کی کوشش میں ہیں۔

 میرکل نے اپنے اس دورے کے حوالے سے کہہ رکھا ہے کہ وہ امریکا کے دورے کے دوران جرمن حکومتی سربراہ کے علاوہ یورپی یونین کی سفیر کا فریضہ بھی انجام دیں گی۔ چانسلر میرکل کو سابق امریکی صدر باراک اوباما کا انتہائی قریبی بین الاقوامی پارٹنر قرار دیا جاتا تھا۔