1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن چانسلرمیرکل کی ’مایوس کن‘ جیت

جرمنی میں صدارتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں ایک ڈرامائی صورتحال کے بعد چانسلر انگیلا میرکل کے سیاسی اتحاد کے نامزد امیدوار کرسٹیان وولف کو نیا صدر چن لیا گیا ہے۔

default

نومنتخب جرمن صدر کرسٹیان وولف

تاہم دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ تیسری مرتبہ ہوا ہےکہ صدارتی الیکشن کے سلسلے میں ووٹنگ تیسرے مرحلے تک پہنچی۔

بدھ کے دن جرمنی میں خصوصی وفاقی اسمبلی ( Bundesversammlung) کے اجلاس میں اگرچہ چانسلر میرکل کے نامزد صدارتی امیدوار کرسٹیان وولف نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اپنے مرکزی حریف یوآخم گاؤک کو شکست دے دی تاہم ووٹنگ کے تیسرے مرحلے میں جانے کو ناقدین نے انگیلا میرکل کے سیاسی اتحاد کے لئے ایک ’سیاسی طمانچہ‘ قرار دیا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ جس طریقے سے وولف صدر منتخب کئے گئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمران سیاسی اتحاد کے اندر اختلافات موجود ہیں اورانہی اختلافات نے وولف کو پہلے دو مرحلوں میں صدر منتخب ہونے سے محروم رکھا۔

Der Präsidentschaftskandidat Joachim Gauck

ناکام صدارتی امیدوار ستر سالہ یوآخم گاؤک

جرمنی میں صدر منتخب ہونے لئے کسی بھی امیدوار کو کل 623 ممبران کی حمایت درکار ہوتی ہے جبکہ اس الیکشن سے قبل سیاسی اتحاد نے کہا تھا کہ ان کے پاس 644 ممبران کی حمایت ہے۔ اس الیکشن سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران سیاسی اتحاد کے اندر باغی عناصر موجود ہیں،جو میرکل کی حکومت کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔

اس الیکشن میں وولف نے تیسرے مرحلے میں آخر کار 625 ووٹ حاصل کر ہی لئے جبکہ ان کے حریف گاؤک کو 494 ووٹ ملے۔ بعد ازﺍں میرکل نے کہا:’’ دن کےاختتام پر ہم نے اطمینان بخش نتیجہ حاصل کرلیا ہے۔ ‘‘

جرمنی میں صدر کا کردار اگرچہ رسمی ہوتا ہے اور ملکی سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن جس طرح نو گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد حکمران اتحاد کے کرسٹیان وولف کو صدر منتخب کیا گیا ہے، ناقدین کے مطابق وہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مخلوط حکومت کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔

Wahl des Bundespräsidenten 2010 Flash-Galerie

صدارتی الیکشن کا خصوصی اجلاس

جرمنی کے کئی اخبارات نے وولف کے صدر منتخب ہونے کے طریقہ کار کو جرمن چانسلر کی سیاسی شکست قرار دیا ہے۔ جرمن جریدے ’ڈئیرشپیگل‘ نے اسے انگیلا میرکل کی ایک ’بڑی شکست‘ قرار دیا تو معروف ہفت روزے ’ڈی زائٹ ‘ نے اسے ’ہزیمت آمیز‘ لکھا ہے۔ برلن کی فری یونیورسٹی سے وابستہ ماہر سیاسیات اوسکارنائیڈرمئیر کے خیال میں صدارتی الیکشن کےدوران حکمران سیاسی اتحاد ’اتحاد‘ دکھانے میں ناکام ہو گیا ہے۔

NO FLASH Wahl des Bundespräsidenten 2010 Christian Wulff Angela Merkel Enttäuschung

اس جیت کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی نفسیاتی شکست قرار دیا جا رہا ہے

جرمنی کے معروف ماہر سیاسیات ایورہارڈ ہولٹمان نے صدارتی انتخابات پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا : میرے خیال میں فی الحال حکمران سیاسی اتحاد کو کوئی خطرہ نہیں لیکن اس کے مستقبل پرایک سوالیہ نشان ضرور لگ گیا ہے۔ یہ ہوسکتا ہےکہ یہ سیاسی اتحاد اپنی مقررہ مدت پوری نہ کر سکے۔‘‘ اسی طرح ایک معروف سیاسی تجزیہ نگار نیلز ڈیڈریش نے اس صدارتی انتخاب کو میرکل کے لئے نفیساتی شکست کہا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM