1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا افتتاح

پاکستانی شہر کراچی کے ایک ہوٹل میں منعقدہ ایک تقریب میں جرمن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا افتتاح عمل میں آیا ہے۔ یہ پہلی غیر ملکی چیمبر آف کامرس ہے، جسکا افتتاح پاکستان میں ہوا ہے۔

Pakistan Karachi Eröffnung Wolfgang Voelter Labor

پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینا لیپل پاکستانی میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے (فائل فوٹو)

اس افتتاحی تقریب میں پاکستان میں تعینات جرمن سفیر اینا لیپل، کراچی میں متعینہ قونصل جنرل رائنر شمیڈشن، جرمنی سے آئے تاجروں کے ایک نمائندہ وفد اور جرمن کمپنیوں کے نمائندوں کے علاوہ پاکستان کی تاجر برادری نے بھی شرکت کی۔

تقریب کے شرکاء نے جرمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز GPCCI کے قیام کو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رابطوں کو فروغ دینے اور باہمی تجارت میں اضافے کے سلسلے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جبکہ دونوں ممالک کی تاجر برادری چیمبر آف کامرس کے قیام کو مستقبل میں دیگر یورپی ممالک تک بھی فروغ پاتا دیکھ رہی ہے۔

اس موقع پر جرمن سفیر اینا لیپل نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیمبر آف کامرس کا قیام ایک انتہائی خوش آئند قدم ہے، جو گیم چینجر ہو گا اور تجارتی تعلقات کے فروغ کا باعث بنے گا کیونکہ یہ ایک مضبوط ادارہ ہوگا، جو بہترین سہولیات فراہم کرے گا۔ اینا لیپل کے مطابق اس میں پاکستان اور جرمنی کی کمپنیوں کو ایک ساتھ کام کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔ جرمن سفیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ادارہ تجارتی تبادلے اور پاکستان میں تجارتی مواقع کی تلاش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گا۔

اس چیمبر کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے جی پی سی سی آئی کے چیئرمین قاضی ساجد کا کہنا تھا کہ جرمن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے قیام کے لیے دس سال سے جدوجہد جاری تھی اور بہت کم ممالک ہیں، جہاں مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان بھی اس صف میں شامل ہو گیا ہے اور اب جو جرمن کمپینیاں پاکستان کے ساتھ تجارت کرنا چاہیں گی، ان میں اعتماد بڑھے گا کیونکہ جس ملک میں مشترکہ چیمبر کام کر رہا ہو، وہاں بہت سے سوال کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

قاضی ساجد کے مطابق یہی وجہ ہے کہ جہاں مشترکہ چیمبر نہیں ہوتا، وہاں بیرونی سرمایہ کار کمپنیاں کام کرنے سے گریز کرتی ہیں، لہٰذا اب جرمن کمپنیوں کا پاکستانی اداروں سے انٹریکشن ہو گا اور ساتھ ہی جرمن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تحت ایک بہت بڑا پلیٹ فارم بنا دیا گیا ہے، جس میں ٹیکسٹائل، آٹو موبائل اور فارماسیوٹیکل ماہر گروپس قائم کیے گئے ہیں:’’ہم پوری انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کے گروپس بنائیں گے اور پھر اس ادارے کی سرگرمیاں پورے پاکستان میں پھیلا دی جائیں گی، جس کے بعد توقع کی جا سکے گی کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارت کا حجم کئی گناہ بڑھ جائے گا۔

کراچی میں تعینات جرمن قونصل جنرل رائنر شمیڈشن نے بھی مشترکہ چیمبر آف کامرس کے قیام کو مستقبل کی تجارت کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا کیونکہ اس سے ’دونوں ممالک کو مزید قریب آنے کا موقع میسر آئے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں تیزی سے بہتر ہوتی امن و امان کی صورت سے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو گا، جو مستقبل میں مشترکہ منصوبوں کی نوید دے گا۔

Rainer Schmiedchen und Ute Franke in Karachi

کراچی میں تعینات جرمن قونصل جنرل رائنر شمیڈشن (بائیں) نے بھی مشترکہ چیمبر آف کامرس کے قیام کو مستقبل کی تجارت کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا (فائل فوٹو)

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے سربراہ اور ممتاز تاجر ایس ایم منیر نے کہا کہ ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ جرمن پاکستان آف کامرس کا قیام اس وقت ہوا ہے، جب وہ ٹیڈاپ کے چیئرمین ہیں:’’اب یہ ادارہ بن گیا ہے، جس کے ذریعے پاکستانی جرمن منڈیوں تک اور جرمن ہماری مارکیٹوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس وقت پاکستان میں افراط زر کم ترین سطح پر ہے اور جی ڈی پی چار اعشاریہ دو فیصد ہو چکی ہے، آئندہ سات فیصد تک ہو جائے گی۔ جرمنی پاکستان کا بہت اچھا دوست ہے، جرمنی نے ہمیشہ پاکستان کو سپورٹ کیا اور ساتھ دیا ہے اور جرمنی پاکستانی مصنوعات کا بڑا درآمد کنندہ بھی ہے۔ ٹیڈاپ کے تحت گذشتہ برس جرمنی میں بائیس نمائشیں منعقد کی گئیں اور آج مشترکہ چیمبر آف کامرس کے قیام سے دوستی کا رشتہ اور بھی مضبوط ہوا ہے۔‘‘

جمعہ ستائیس مئی کو منعقد ہونے والی اس تقریب میں پاکستانی ثقافت کے رنگ بھی نمایاں تھے۔ اس تقریب کا اختتام لوک موسیقی کے ایک دل فریب پروگرام پر ہوا، جسے حاضرین نے خوب سراہا۔

ملتے جلتے مندرجات