1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن پالیسی برائے توانائی میں بھارت کی دلچسپی

جرمنی اور بھارت کے درمیان حکومتی سطح کی مشاورتوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ دونوں حکومتوں کے مابین ان مذاکرات میں توانائی کے موضوع کو بھی اہمیت حاصل ہے۔

default

جرمن وزیر خارجہ اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اس حوالے سے مذاکرات کے لیے پیر کو اپنے جرمن ہم منصب گیڈو ویسٹر ویلے کو خوش آمدید کہا۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے پانچ ممالک کے دورے کے دوسرے مرحلے میں وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی نے پیر کو 2022ء تک جوہری توانائی ترک کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، بھارت میں اس میں بہت دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے۔

ویسٹر ویلے نے کہا: ’وہ (بھارتی حکام) اس بات پر غور کر رہے کہ ہم جرمنی میں اپنی توانائی کی پالیسی پر ازسر نو غور کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہر بات ٹھیک طور سے سمجھی نہ گئی ہو، تاہم قابل تجدید توانائی میں بہت زیادہ دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے۔‘

جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ’کامیاب اقتصادی‘ کہانی بن سکتی ہے، جس میں جرمنی کو سولر اور وِنڈ پاور جیسے شعبوں میں ٹیکنالوجی لیڈر کی حیثیت حاصل ہو۔

بھارت دنیا کا سب سے بڑا سولر پاور انرجی کا منصوبہ تشکیل دے رہا ہے، جس کی پیداواری صلاحیت ایک سو پچیس میگاواٹ ہو گی۔ جرمنی کا ترقیاتی بینک اس منصوبے کے لیے اسّی فیصد مالی وسائل، یعنی ڈھائی سو ملین یورو فراہم کرے گا۔

بھارت اور جرمنی کے درمیان ان مشاورتی نشستوں میں جن دیگر موضوعات پر بات ہوگی، ان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے لیے برلن حکومت کی کوششیں شامل ہیں۔ بھارت بھی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ میں اصلاحات پر بھی بات چیت کریں گے جبکہ جرمنی بھارت کو ایک سو چھبیس یورو فائٹر جیٹس فروخت کرنے کے لیے معاہدہ بھی چاہتا ہے، جن کی مالیت سات ارب یورو ہے۔

Indien Deutschland S.M. Krishna Guido Westerwelle 2 NO FLASH

گیڈو ویسٹر ویلے اور ایس ایم کرشنا

بھارت گزشتہ ماہ پہلے ہی جنگی طیارے خریدنے کے لیے امریکی کمپنیوں کو ردّ کر تے ہوئے برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور اسپین کی جانب سے مشترکہ طور پر بنائے جانے والے یورو فائٹر اور فرانس کے رافال کو شارٹ لِسٹ کر چکا ہے۔

بھارت نے اس معاہدے کے لیے سویڈن کے ساب JAS-39 اور روس کے مِگ 35 کو بھی رد کر دیا تھا۔ لاکہیڈ اور بوئنگ امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کو طیارے فراہم کرنے والی اہم کمپنیاں ہیں۔ انہوں نے بھارت سے اس معاہدے کے حصول کے لیے وسیع تر کوششیں کی تھیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس