1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملے کے منصوبے کا انکشاف

جرمن نیوز میگزین ڈیر شپیگل نے برلن میں جرمن پارلیمنٹ پر القاعدہ کے ممکنہ دہشت گردانہ منصوبے کی تفصیلات شائع کی ہیں، جس کے تحت انتہاپسند پارلیمنٹ پر مستقبل قریب میں حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

default

اس جریدے کے مطابق جرمنی کے وفاقی فوجداری ادارے BKA کو اپنے ذرائع سےاس منصوبے کے بارے میں آگاہی حاصل ہو گئی ہے۔ جرمن کریمنل دفتر کو اس مناسبت سے جو معلومات دستیاب ہوئی ہیں وہ بیرون جرمنی سرگرم ایک جہادی گروپ کے ٹیلیفون رابطوں سےحاصل کی گئی تھیں۔ ممکنہ دہشت گردانہ پلان کی ابتدائی اطلاعات کی دستیابی کے بعد جرمن پارلیمنٹ کی سکیورٹی میں خصوصی اضافہ کیا جا چکا ہے۔ دارالحکومت برلن میں واقع وفاقی پارلیمان کی بلڈنگ کو جانے والے تمام راستوں پر سکیورٹی رکاوٹیں بھی کھڑی کر دی گئی ہیں۔

ڈیر شپیگل کے مطابق اس ممکنہ دہشت گردانہ کارروائی میں کم از کم چھ جہادیوں نے حصہ لینا تھا۔ ان چھ جہادیوں میں شامل تین لوگوں کی قومیتوں کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ خفیہ اطلاع کے مطابق جہادی گروپ میں شامل چھ میں سے تین افراد میں سے ایک جرمن، ایک ترک اور شمالی افریقہ کا ایک جہادی شامل ہے۔ بقیہ تین جہادیوں کی قومیت کی شناخت بظاہر ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ جرمن حکام کو اطلاع دینے والے مخبر کے مطابق اس حملے میں حصہ لینے والے دو افراد چھ سے آٹھ ہفتے قبل برلن پہنچ چکے ہیں۔ پارلیمنٹ پر حملے کے لئے جہادیوں نے فروری یا مارچ میں سے کسی ایک مہینہ کو منتخب کرنا تھا۔

Pressestatement de Maiziere zu verdächtigem Paket im Kanzleramt

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزئیر

جرمن میگزین کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزئیر کو تقریباً دو ہفتے قبل امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی (FBI) نے بتایا تھا کہ بھارت میں بظاہر کم فعال انتہاپسند شیعہ عقیدے کا ایک گروپ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی اس مناسبت سے معاونت کر رہا تھا۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حال ہی میں جرمنی میں سکیورٹی بڑھانے کی امکانی وجہ یہ رپورٹ بھی ہو سکتی ہے۔

گزشتہ بدھ کو جرمن وزیر داخلہ Thomas de Maiziere نے میڈیا کو بتایا تھا کہ جرمنی میں دہشت گردانہ واقعات کا خطرہ ہے اور ایک ممکنہ حملہ اس ماہ کے دوران سامنے آ سکتا ہے۔ ان کے حکم پر پولیس کو کڑی نگرانی اور مسلسل چوکس رہنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔ جرمن وزیر داخلہ کے مطابق اس صورت حال میں چوکس اور الرٹ رہنا اہم ہے اور عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔

رواں سال کے وسط سے امریکہ اورجرمنی سمیت دوسرے یورپی ملکوں پر ممکنہ القاعدہ کے حملوں کے حوالے سے خفیہ اطلاعات تواتر سے سامنے آ رہی ہیں۔

ڈیر شپیگل نے جو رپورٹ شائع کی ہے اس کے بارے میں جرمن وزارت داخلہ اور پولیس حکام کا کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس