1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن پارلیمان کا تین ممالک کو ’محفوظ‘ قرار دینے سے انکار

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی حکومت کی جانب سے تین شمالی افریقی ممالک کو محفوظ قرار دینے سے متعلق پیش کیا گیا ایک قانونی مسودہ ملکی پارلیمان کے ایوانِ بالا نے مسترد کر دیا۔

جمعے کے روز جرمن ایوانِ بالا کی جانب سے اس حکومتی مسودے کے رد کر دیے جانے کو چانسلر میرکل کی حکومت کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس قانونی مسودے کے مطابق شمالی افریقی ممالک سے ہجرت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کے لیے ان کے آبائی ممالک کو محفوظ قرار دینے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم یہ مسودہ جرمن ایوان بالا نے رد کر دیا۔

اس مسودے کے مطابق الجزائر، تیونس اور مراکش کو محفوظ ممالک قرار دیتے ہوئے ان ممالک کے شہریوں کی جرمنی سے ملک بدریوں کو آسان بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ حکومتی موقف تھا کہ ان ممالک کو محفوظ قرار دیے جانے کے بعد جرمن حکام کے لیے ان ممالک کے شہریوں کی سیاسی پناہ کی درخواستیں رد کرنے میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔

اس قانونی مسودے میں جرمن حکومت نے موقف اپنایا تھا کہ الجزائر، تیونس اور مراکش میں حکومتیں اپنے مخالفین کو منظم انداز سے نشانہ نہیں بناتیں اور اس لیے ان ممالک کے شہریوں کو غیرقانونی طور پر یورپ میں اپنا مستقبل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔

Flüchtlinge Grenzbarrieren Grenze zwischen Mazedonien Serbien (Getty Images/AFP/R. Atanasovski)

شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ہزارہا افراد جرمنی میں سیاسی پناہ کے متلاشی ہیں

جرمنی نے سن 2015ء میں قریب ایک ملین مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی تھی، تاہم میرکل حکومت کا موقف ہے کہ صرف ایسے مہاجرین کو پناہ دی جانا چاہیے، جنہیں ان کے آبائی ممالک میں حقیقی خطرات کا سامنا ہے۔ چانسلر میرکل کی مہاجرین دوست پالیسیوں کی وجہ سے انہیں ان کی اپنی پارٹی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جب کہ ملک میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی کی مقبولیت بھی اسی تناظر میں خاصی بڑھی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چانسلر میرکل کی پالیسیوں کو ’تباہ کن غلطی‘ قرار دیا تھا۔

تاہم جرمن ایوان بالا میں شمالی افریقی ممالک سے متعلق قانونی مسودے کو مسترد کرنے میں بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی جماعتوں گرین پارٹی اور لیفٹ پارٹی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان جماعتوں کی جانب سے کہا گیا کہ الجزائر، تیونس اور مراکش میں انسانی حقوق کی مختلف النوع خلاف ورزیاں عمل میں آ رہی ہیں، جن میں ہم جنس پرستوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا برتاؤ بھی شامل ہے۔

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے ایوان بالا کی جانب سے قانونی مسودے کے رد کیے جانے کو غیرقانونی تارکین وطن کی جرمنی آمد کو روکنے سے متعلق حکومتی کوششوں کے لیے ’ایک برا دن‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری گرین پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔