1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن پارلیمان نے افغان مشن کی مدت میں توسیع کر دی

افغانستان میں جرمن فوجی مشن میں توسیع کے حوالے سےو جمعرات کے دن جرمن پارلیمان میں بحث ہوئی اس بات کا پہلے سے ہی قوی امکان تھا کہ جرمن کابینہ کی طرف سے منظور شدہ توسیع کو پارلیمان سے بھی گرین سگنل مل جائے گا۔

default

افغانستان میں اس وقت تقریبا 43,00 فوجی تعینات ہیں

جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں نے افغان مشن کی مدت میں توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ جمعرات کے دن پارلیمان میں ہوئی ووٹنگ میں اس مشن کی توسیع کے حق میں 445 ممبران نے ووٹ ڈالا جبکہ 105 اس قدم کے خلاف رہے۔ اس دوران 43 ممبران غیر حاضر تھے۔ اس فیصلے کے بعد اب افغانستان میں تقریبا 4500 جرمن فوجی مزید ایک سال تعینات رہیں گے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی کابینہ نے اٹھارہ نومبر کو ہی جرمنی کے افغان مشن کی مدت میں ایک سال کی توسیع کو منظوری دے دی تھی۔ اب جرمن پارلیمان میں بھی اسے منظوری ملنا تقریبا طے ہے۔

اس وقت افغانستان میں جرمنی کے تقریبا 4,500 فوجی تعینات ہیں۔ بحران زدہ افغانستان میں امریکہ اور برطانیہ کے بعد سب سے زیادہ فوجی جرمنی کے ہی ہیں۔

Bundeskanzlerin Angela Merkel

چانسلر اینگیلا میرکل کی کابینہ نے ابھی حال ہی میں اپنے افغان مشن میں ایک سال کی توسیع منظور کی تھی

ابھی چند ہی روز پہلے امریکی صدر باراک اوباما نے نئی افغان حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے مزید تیس ہزار امریکی فوجیوں کو افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا ۔

دوسری جانب مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے بدھ کے روز یہ اعلان کیا کہ مغربی دفاعی اتحاد میں شامل ممالک اپنے مزید کم از کم پانچ ہزار فوجی افغانستان روانہ کریں گے۔ راسموسن نے ایک نشریاتی ادارے کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پنپنے والی دہشت گردی سے صرف امریکہ کو ہی نہیں بلکہ دنیا کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ یہ صرف امریکہ کی ہی جنگ یا مسلہ نہیں، بلکہ ہم سب کی سلامتی کا مسلہ ہے۔ اگر ہم افغانستان کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں تو ہم وہاں دہشت گردوں کو دوبارہ طاقت اکٹھی کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔ اس طرح دہشت گرد افغانستان سے وسطی ایشیائی ممالک سے ہوتے ہوئے مزید آگے بڑھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘‘

امریکہ کی طرف سے نیٹو ممالک پر دباوٴ ہے کہ وہ اپنے فوجی مشنز میں توسیع کے ساتھ ساتھ اپنے فوجیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کریں ۔ فرانسیسی حکام کے مطابق امریکہ نے جرمنی سے مزید دو ہزار جبکہ فرانس سے کم از کم مزید پندرہ سو فوجی افغانستان تعینات کرنے کی درخواست کی ہے۔ جرمنی میں کسی حد تک متنازعہ افغان مشن میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق سیاسی طور پر اختلافات موجود ہیں۔

NATO-Generalsekretär Anders Fogh Rasmussen

نیٹو کی سیکریٹری جنرل راسموسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں پنپنے والی دہشت گردی سے پوری دنیا کو خطرہ ہے

آٹھ سال سے جاری غیر مقبول افغان جنگ کے حوالے سے برطانیہ نے بھی اپنے مزید پانچ سو فوجیوں کو وہاں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ جرمنی نے فوجی اضافے کے حوالے سے کہا ہے کہ آئندہ سال جنوری میں افغانستان کے مسئلے پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے بعد ہی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

نئی افغان سٹریٹیجی کے ساتھ ہی باراک اوباما نے امید ظاہر کی تھی کہ امریکہ جلد ہی افغان مشن کی تکمیل چاہتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک