1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن پارلیمان میں قندوز حملے کی تفتیش، نئے انکشافات

4 ستمبر کو قندوز میں جرمن فوج کے ایک کرنل کے حکم پر دو آئل ٹینکرز پر ہونے والے فضائی حملے اور متعدد طالبان عسکریت پسندوں سمیت درجنوں شہریوں کی ہلاکت کے تین ماہ بعد آج جرمن پارلیمان میں تفتیشی کارروائی کا آغاز ہو رہا ہے۔

default

34 مستقل اراکین پر مشتمل جرمن دفاعی کمیٹی ایک خصوصی پینل تشکیل دے گی، جو اُن حالات کا بغور جائزہ لے گا، جن کے پیش نظر جرمن فوج کے کرنل نے شمالی افغان صوبے قندوزمیں طالبان کی طرف سے اغوا شدہ دو آئل ٹینکرز پر فضائی حملے کا حکم دیا تھا۔

قندوز میں جرمن فوج کے کرنل کے حکم پر ہونے والے متنازعہ فضائی حملے کے نتیجے میں اُس وقت کے جرمن وزیر دفاع اور جرمن فوج کے سربراہ تو پہلے ہی اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں تاہم جرمن پارلیمان میں اب اپوزیشن کی طرف سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی حکومت پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ قندوز کے واقعے کی تفصیلات کی پردہ پوشی کی کوشش کر رہی ہے۔ دفاعی کمیٹی کی آج سے شروع ہونے والی تفتیشی کارروائی غالباً ایک سال تک جاری رہے گی، جس دوران ان تمام سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی جن کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ آیا موجودہ جرمن وزیر دفاع سو گوٹن برگ کو قندوز حملے سے متعلق ضروری دستاویزات سے واقعی دور رکھا گیا تھا؟

Afhanistan-Mandat Bundestag

جرمن وزیر دفاع نے بھی چند روز قبل قندوز کا دورہ کیا

سو گوٹن برگ گرچہ ستمبر میں ہونے والے واقعے کے وقت جرمنی کے وزیر دفاع نہیں تھے تاہم تفتیشی کارروائی میں سب سے پہلے انہیں سے پوچھ گچھ ہو گی۔ سو گوٹن برگ قندوز کے فضائی حملے کی اصل اطلاعات کی تفصیلات کے بارے میں اب تک خاموش ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ دفاعی کمیٹی کی تفتیشی کارروائی ہی ان متنازعہ موضوعات کو زیر بحث لانے کا سب سے مناسب طریقہ ہے۔

’’یہی وہ فورَم ہے، جہاں ہر چیز منظر عام پر آنی چاہئے۔ قندوز کے فضائی حملے کا ذمہ دار میں نہیں ہوں تاہم مجھے ان معلومات میں دلچسپی ہے کہ کون سا فیصلہ کس نے کیا اورکس بنیاد پر اور کن وجوہات کے تحت کونسی معلومات متعلقہ افراد پہنچائی یا نہ پہنچائی گئیں۔‘‘

اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور موجودہ جرمن وزیر دفاع دونوں سے پوچھ گچھ ہونی چاہئے۔ قندوز کے فضائی حملے کی پارلیمانی تفتیشی کارروائی کے آغاز پر ہی ایک معروف جرمن جریدے ’Stern‘ کے ذریعے منظر عام پر آنے والی ایک تازہ ترین خبر نے جرمنی میں پہلے ہی زور شور سے جاری بحث میں ’جلتی پر تیل‘ کا کام کیا ہے۔ جرمن خفیہ سروس کی دستاویزات سے متعلق جریدے Stern میں چھپنے والی رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ قندوز کے فضائی حملے کا حکم دینے والے جرمن فوج کے کرنل Georg klein نے اس واقعے کے بعد مزار شریف میں تعینات جرمن کمان کی تفتیشی ٹیم کو حملے کی تحقیقات سے روکے رکھا۔

Afghanistan Bundeswehr Deutschland Angriff auf Tanklaster in Kundus

اس واقعے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے

اگرچہ یہ ٹیم فضائی حملے کے بعد 4 ستمبر کی صبح ہی قندوز پہنچ گئی تھی تاہم اُسے جرمن فوجیوں کے ہمراہ اس وقت تک جائے وقوعہ تک پہنچنے نہیں دیا گیا، جب تک مقامی افغانوں نے لاشوں کو دفنا نہیں دیا۔ ان دستاویزات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ افغانستان متعینہ امریکی فوج کے کمانڈر اسٹینلے میک کرسٹل نے جرمن فوج کی طرف سے اس واقعے میں محض طالبان کی ہلاکتوں کی رپوٹنگ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ میک کرسٹل نے قندوز فضائی حملے کے ویڈیو فُٹیج دیکھنے کے بعد کہا تھا کہ اِس حملے میں شہریوں کی ہلاکت نہ ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ جنرل کرسٹل نے قندوز کے واقعے کو افغانستان متعینہ جرمن فوج کی سرگرمیوں کے اصول و ضوابط کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

پارلیمانی تفتیشی کمیٹی کی سربراہ Susanne Kastner نے کہا ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے بھی اس بارے میں سوال کیا جائے گا اور میرکل کے حق میں یہی بہتر ہے کہ وہ اس معاملے میں واضح بیان دیں۔

’’میری ذاتی ترجیح یہ تھی کہ اس بارے میں حکومت کی طرف سے ایک واضح بیان ایوان زیریں کے سامنے پیش کیا جاتا۔‘‘

کاسٹنر کے مطابق اس امر پر حکومتی سطح پر اتفاق گرچہ ہو گیا ہے کہ تمام اراکین پارلیمان کو جرمن پارلیمان کی ایک خصوصی نشست میں قندوز کے واقعات کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا، تاہم اس کی وہ سیاسی اہمیت نہیں ہو گی جو کہ ایک واضح سرکاری اعلامیے کی ہوتی۔

اس تفتیشی کارروائی میں اس امر پر بھی غور وخوض کیا جائے گا کہ ان نئے مفروضات میں کس حد تک جان پائی جاتی ہے کہ کرنل Georg klein نے فضائی حملے کا حکم جرمن خفیہ سروس اور جرمنی کی خصوصی فوجی دستوں KSK کی طرف سے ملنے والی چند اہم معلومات کے پیش نظر دیا تھا۔

رپورٹ : کشور مصطفیٰ

ادارت : امجد علی