1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن پارلیمانی اسپیکر کی طرف سے ترک صدر کی دھمکیوں کی مذمت

وفاقی جرمن پارلیمان کے اسپیکر نوربرٹ لامرٹ نے ترک صدر ایردوآن کی طرف سے ترک نژاد جرمن رکن پارلیمان کو دی گئی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھمکیاں کسی ایک منتخب نمائندے کو نہیں بلکہ پورے ایوان کو دی گئی ہیں۔

Deutschland Bundestag Armenienresolution

جرمن پارلیمان کے اسپیکر نوربرٹ لامرٹ

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں یا بنڈس ٹاگ کے اسپیکر نے اپنے ایک بیان میں ایوان میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کے احزاب کی طرف سے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے بیان کی مذمت کی۔

اسپیکر نوربرٹ لامرٹ نے کہا، ’’جو کوئی بھی ایسی دھمکیوں کے ساتھ کسی بھی منتخب عوامی نمائندے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، اسے لازمی طور پر معلوم ہونا چاہیے کہ وہ پوری پارلیمان پر حملے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘

چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین CDU سے تعلق رکھنے والے اسپیکر لامرٹ نے جمعرات نو جون کے روز پارلیمانی اجلاس کے آغاز پر اپنے خطاب میں زور دے کر کہا کہ وہ اس معاملے میں جرمن پارلیمان کے ان تمام ارکان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، جو ترک صدر ایردوآن کے ایک متنازعہ بیان کی وجہ سے خود کو دباؤ میں محسوس کرتے ہیں۔

اسپیکر لامرٹ نے بنڈس ٹاگ کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ جزوی طور پر ان نفرت آمیز دھمکیوں کو ترکی کے اعلیٰ ترین سیاستدانوں نے بھی اپنے بیانات کے ذریعے ہوا دی ہے۔

Deutschland Debatte im Bundestag um Anerkennung des Völkermordes durch die Türkei an den Armeniern

ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کے سربراہ اور جرمن پارلیمان کے ترک نژاد رکن چَیم اوئزدیمیر

لامرٹ نے کہا، ’’یہ کہ اکیسویں صدی میں جمہوری طور پر منتخب شدہ ایک سربراہ مملکت جرمن پارلیمان کے جمہوری طور پر منتخب ارکان کے بارے میں یہ بیان دے گا کہ اسے ان ترک نژاد جرمن ارکان پارلیمان کے ترک نسلی پس منظر پر شک ہے اور وہ ایسے عوامی نمائندوں کے خون کو خراب قرار دے گا، میں اس بات کو بالکل ممکن نہیں سمجھتا تھا۔‘‘

نوربرٹ لامرٹ نے پارلیمانی اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں یہ بھی کہا کہ وہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے اس بیان کو بھی مسترد کرتے ہیں، جس میں ایردوآن نے بنڈس ٹاگ کے منتخب ارکان کے دہشت گردوں کے حق میں بیان دینے والے افراد بن جانے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق پہلی عالمی جنگ کے دور میں ترکی میں سلطنت عثمانیہ کے عہد میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو ’نسل کشی‘ قرار دیے جانے سے متعلق بنڈس ٹاگ میں حال ہی میں ایک قرارداد کی منظوری کے بعد صدر ایردوآن نے کہا تھا، ’’(برلن کی پارلیمان میں) اس قرارداد کے مسودے کو ایک ’مغرور شخص‘ نے تیار کیا تھا۔‘‘ ایردوآن کا اشارہ بظاہر جرمنی میں ماحول پسندوں کی گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے ترک نژاد رکن پارلیمان چَیم اوئزدیمیر سے تھا۔

چَیم اوئزدیمیر پر شدید تنقید کرتے ہوئے ترک صدر ایردوآن نے کہا تھا، ’’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ترک نژاد ہے۔ ایسا کہنا بند کرو۔ ایسے لوگوں کے خون کا لیبارٹری میں معائنہ کیا جانا چاہیے۔‘‘ اس کے علاوہ اپنے اس بیان میں ترک صدر نے جرمن پارلیمان کے اسی ترک نژاد رکن کے کردوں کی ممنوعہ تنظیم پی کے کے کے ساتھ مبینہ رابطے کا ذکر بھی کیا تھا۔

Türkei Ankara Präsident Tayyip Erdogan

ترک صدر رجب طیب ایردوآن

صدر ایردوآن کے اس بیان کے بعد ترکی میں اس ترک نژاد جرمن رکن پارلیمان کے خلاف دھمکیوں کا طویل سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ چند ترک قانونی ماہرین نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ وہ ترکی میں چَیم اوئزدیمیر کے خلاف باقاعدہ مقدمہ دائر کر دیں گے۔

اس پس منظر میں خود جرمن چانسلر میرکل صدر ایردوآن کے بیانات پر اپنے ردعمل میں کہہ چکی ہیں، ’’جو الزامات عائد کیے گئے ہیں اور جو بیانات دیے گئے ہیں، وہ میرے لیے قابل فہم نہیں ہیں۔‘‘

DW.COM