1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

جرمن ٹیم کی جیت پر جرمنی میں جشن

اس وقت پوری دنیا میں بالعموم اور یورپ بھر میں بالخصوص فُٹ بال ورلڈ کپ کا بخار ہے۔ یہاں جرمنی میں کافی ہاؤسز، بارز اور ریستورانوں میں فُٹ بال شائقین کے لئے براہ راست میچ دیکھنے کے لئے بڑی بڑی سکرینز لگائی گئی ہیں۔

default

شمالی جرمن شہر ہیمبرگ میں جرمن فُٹ بال ٹیم کے مداح خوشیاں مناتے ہوئے

Deutsche Fußballfans in Hamburg WM 2010

کیفیز کے باہر فُٹ بال کے مداح کافی اور بیئر کے مزے لیتے ہوئے میگا سکرینز پر میچوں کا لطف اٹھاتے ہیں اور اپنی اپنی ٹیموں کے حوصلے بڑھاتے ہیں۔

جرمنی میں قومی فُٹ بال ٹیم کے مداح تو کچھ زیادہ ہی خوش دکھائی دے رہے ہیں۔ جرمن تماشائیوں کے چہروں پر خوشیوں کے آثار نمایاں ہیں۔ اور کیوں نہ ہوں؟ جرمن ٹیم نے جنوبی افریقہ میں جاری فیفا ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں ہنگامہ خیز شروعات جو کی۔

Starbucks Coffee in Berlin Kaffeehaus Außen

برلن میں سٹار بَکس کافی ہاوٴس

اتوار کو جرمن ٹیم نے اپنا پہلا میچ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا اور ایسا کھیلا کہ ناقدین کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ جرمنی نے آسٹریلوی ٹیم کے نیٹ میں چار مرتبہ شاندار گول داغے اور یوں ٹورنامنٹ میں شامل دیگر ٹیموں کو ایک ’ویک اَپ‘ کال دی۔

جرمن دارالحکومت برلن کے مشہور زمانہ برانڈن برگ گیٹ کے سامنے تیس ہزار سے زائد تماشائیوں نے جرمن ٹیم کی جیت کا بھرپور انداز میں جشن منایا۔ شہر ہیمبرگ میں ساٹھ ہزار افراد نے جبکہ شہر کولون میں لینسیس ایرینا میں پندرہ ہزار مداحوں نے اس میچ کو بڑی سکرین پر دیکھا۔ پیر کے روز تقریباً تمام ہی بڑے جرمن اخبارات میں جرمن فُٹ بال ٹیم کی اس جیت کی خبر چھائی رہی۔ مختلف اخبارات میں نوجوان جرمن ٹیم کے ہُنر اور صلاحیتوں کی زبردست ستائش کی گئی۔ بعض اخبارات میں یہ دعوے بھی کئے گئے: ’’ورلڈ کپ تو اب ہمارا ہی ہے۔‘‘ برطانوی اخبارات میں بھی جرمن ٹیم کی زبردست الفاظ میں تعریفیں کی گئی ہیں۔

Deutsche Fußballfans in Berlin WM 2010 Flash-Galerie

جرمن تماشائی جشن مناتے ہوئے

فُٹ بال ورلڈ کپ کا پچھلا ٹورنامنٹ جرمنی میں منعقد ہوا تھا لیکن تب میزبان ٹیم سیمی فائنل میں ہار گئی تھی۔ اس بار ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جرمن فُٹ بال ٹیم پھر سے چیمپیئن شپ کا تاج سر پر رکھنے کی خواہش مند ہے۔

فیفا نے عالمی کپ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی کُل بتیس ٹیموں کو آٹھ گروپوں میں تقسیم کیا ہے۔ میزبان جنوبی افریقہ اور فرانس کی ٹیمیں گروپ 'اے‘ میں جبکہ جرمنی اور آسٹریلیا گروپ 'ڈی‘ میں رکھی گئی ہیں۔ پورے ٹورنامنٹ کے دوران شائقین کی نظریں پرتگال کے سٹار کرسٹیانو رونالڈو، انگلش کھلاڑی وین مارک رونی، ارجنٹائن کے میسی اور جرمنی کے میروسلاو کلوزے اور باستیان شوائن شٹائگر جیسے کھلاڑیوں پر مرکوز رہیں گی۔

ورلڈ کپ فُٹ بال ٹورنامنٹس کی تاریخ:

سن 2006ء کا ورلڈ کپ ٹائٹل اٹلی نے جیتا تھا، جس میں اطالوی ٹیم نے فرانس کو شکست دی تھی۔ یہ ٹورنامنٹ جرمنی میں منعقد ہوا تھا۔ اس سے پہلے سن 2002ء کے فُٹ بال ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں برازیل نے جرمن ٹیم کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا تھا۔ برازیل اب تک ریکارڈ پانچ مرتبہ ورلڈ چیمپیئن بن چکا ہے جبکہ اطالوی ٹیم چار بار عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر چکی ہے۔ اس کے بعد جرمن ٹیم تین بار، ارجنٹائن اور یوروگوائے کی ٹیمیں دو دو مرتبہ جبکہ انگلینڈ اور فرانس کی ٹیمیں ایک ایک مرتبہ عالمی چیمپیئن بنی ہیں۔

سن 2010ء کا ورلڈ کپ فُٹ بال ایونٹ انیسواں ٹورنامنٹ ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے باعث سن 1942ء اور 1946میں فیفا ورلڈ کپ ٹورنامنٹ منعقد نہیں ہو سکے تھے۔

فُٹ بال کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ ایونٹ افریقی براعظم میں کھیلا جا رہا ہے۔ جنوبی افریقہ میں گیارہ جون سے شروع ہونے والے انیسویں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کا فائنل گیارہ جولائی کو کھیلا جائے گا۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات