1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن وزیر دفاع کو بغلان کا دورہ ملتوی کرنا پڑا

سُو گٹن برگ جمعرات کی شب طیارے میں تکنیکی خرابی کے سبب 16 گھنٹے کی تاخیر سے افغانستان پہنچے۔

default

جرمن وزیر دفاع افغانستان کے اچانک دورے پر قندوز میں

وفاقی جرمن وزیر دفاع کارل تھیوڈور سُوگٹن برگ نے افغان صوبے قندوز میں طالبان عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں روز بروز بڑھتی ہوئی پیشہ ورانہ مہارت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ بیان انہوں نے افغانستان کے ایک اچانک دورے پر قندوز میں دیا۔ وہ پہلے مزارِ شریف گئے، جہاں انہوں نے نیٹو کی سربراہی میں تعینات عالمی امن فورسز آئی سیف کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ جمعرات کو برلن میں اپنی روانگی سے قبل انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جرمن فوج کے افغان مشن کو جرمنی کے اندر ہی اتنا غیر اہم بنا دیا گیا ہے کہ فوجی احساس محرومی کا شکار ہو گئے ہیں۔ جرمن وزیر کے اس دورے کا مقصد افعانستان متعینہ جرمن فوج کے آپریشنز کا قریب سے جائزہ لینا ہے۔ سُوگٹن برگ کا 9 ماہ قبل وزیر دفاع بننے کے بعد سے اب تک افغانستان کا یہ چوتھا دورہ ہے۔ قندوز میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے اس اچانک دورے کے مقاصد کے بارے میں اُنہوں نے کہا، ’میں نے وزیر دفاع کا عہدہ سنبھالتے ہی وعدہ کیا تھا کہ میں ہر دوسرے ماہ افغانستان کے اُن علاقوں کا دورہ کروں گا، جہاں جہاں ہمارے فوجی تعینات ہیں۔ میرے دورے کا دوسرا اہم مقصد قندوز کے اندر اور اس کے گرد و نواح کی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔ ہم اپنے فوجیوں کو یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ ہم مکمل طور پر ان کے ساتھ ہیں۔ انہیں وفاقی جرمن حکومت کی پوری سپورٹ حاصل ہے۔ ہم اپنے عوام کو بھی افغانستان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

Zu Guttenberg in Kunduz

جرمن فوجیوں کو حکومت کا پورا سپورٹ حاصل ہے: سوگٹن برگ

جرمن وزیر دفاع نے ستمبر میں افغانستان کے ایوانِ زیریں کے لئے مجوزہ انتخابات سے پہلے کے اِن دو مہینوں جولائی اور اگست میں افغانستان میں امن عامہ کی صورت حال کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تاہم انہوں نے اپنے فوجیوں کی اب تک کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ’میں چند گھنٹوں پہلے ہی مزارِ شریف میں تھا، جہاں چالیس امریکی ہیلی کاپٹرز علاقائی کمان کے حوالے کئے گئے۔ یہ آگے کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔‘

سُوگٹن برگ کو شمالی افعانستان کے شورش زدہ صوبے بغلان میں قائم جرمن ’کوئک ری ایکشن فورس‘ کے کیمپ کا دورہ ملتوی کرنا پڑا۔ وہ قندوز کے فوجی اڈے سے بغلان کیمپ کی طرف روانہ ہو چکے تھے کہ راستے میں اُنہیں بغلان کے علاقے سے جرمن فوج اور طالبان عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ جرمن فوج کے کمانڈر نے سکیورٹی کی صورتحال کے سبب گٹن برگ کو بغلان کا دورہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا۔ اس واقعے سے پہلے ہی جرمن وزیر دفاع شمالی افغانستان میں سلامتی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر چکے تھے۔

Angela Merkel Karl Theodor zu Guttenberg Kabinett Flash-Galerie

گٹن برگ کے افغانستان کے دورے سے پہلے اُن کی جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقات

جرمن وزیر دفاع کے اس دورے کو افغانستان میں آئندہ ہفتے منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس بارے میں گٹن برگ نے کہا ’یہ کانفرنس غیر معمولی اہمیت کی حامل ہو گی۔ اس میں رواں سال جنوری میں لندن میں ہونے والی افغانستان کانفرنس کے بعد سے اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ لندن میں افغانستان سے متعلق حکمت عملی میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کابل منعقدہ کانفرنس میں لندن میں ہونے والے فیصلوں کے بعد سے اب تک کی کارکردگی کا ایک میزانیہ پیش کیا جائے گا‘۔ جرمن وزیر نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال میں بہتری کی ذمہ داری محض عالمی برادری پر عائد نہیں ہوتی، اس کا دارومدار کابل حکومت کے قومی ذمہ داریاں نبھانے کے احساس پر بھی ہے۔ انہوں نے کہا ’اس سلسلے میں وفاقی جرمن حکومت کابل کی طرف سے سگنل ملنے کی توقع کر رہی ہے‘۔

Zu Guttenberg in Kunduz

قندوز میں قائم جرمن فوجی اڈہ

جرمن وزیر کے بقول ’عالمی سلامتی کو افغانستان کے علاقوں سے کسی قسم کے خطرات لاحق نہیں ہونے چاہئیں۔ سُو گٹن برگ نے اپنے اس دورے کے دوران قندوز میں اپنے فوجیوں کے ساتھ ان خاص قسم کے بکتر بند ٹینکوں کا شو بھی دیکھا، جنہیں قندوز میں ابھی حال ہی میں جرمن فوج نے مزاحمت کاروں کے خلاف استعمال کیا۔ یہ جرمن فوج کی طرف سے افغانستان میں اب تک استعمال میں لائے جانے والے مؤثر ترین اور بڑے ہتھیار ہیں اور وفاقی جرمن وزیر دفاع کی نئی سیاسی پالیسی کی علامت بھی ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی

DW.COM