1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن وزیر خارجہ کی امریکی ہم منصب سے ملاقات، ’یکساں موقف‘

امریکا کے دو روزہ دورے پر گئے ہوئے جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے ساتھ بھی ہونے والی بات چیت کا مثبت میزانیہ پیش کیا ہے۔

USA Sigmar Gabriel trifft Mike Pence (picture-alliance/dpa/Photothek.Net/Bundesregierung/Thomas Imo)

اس تصویر میں جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل واشنگٹن میں امریکا کے نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں

جمعرات کو اپنے دورے کے پہلے روز ان جرمن رہنماؤں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے بعد جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے کہا کہ اگرچہ مہاجرت، یورپ، یوکرائن اور روس کے طرزِ عمل کے حوالے سے جرمنی اور امریکا کے درمیان اختلافات موجود ہیں لیکن امریکی نائب صدر مائیک پینس اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے ساتھ اُن کے مذاکرات میں یہ اختلافات زیرِ بحث نہیں آئے۔ گابریئل نے کہا:’’مَیں اس بات پر بہت مطمئن ہوں کہ بہت سے معاملات پر ہمارے درمیان وسیع اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔‘‘

گابریئل کے مطابق پینس اور ٹلرسن دونوں نے یہ بات واضح کی کہ وہ یورپ کے استحکام میں زبردست دلچسپی رکھتے ہیں۔ گابریئل پہلے جرمن سرکاری عہدیدار ہیں، جنہوں نے واشنگٹن میں نئی انتظامیہ کے آنے کے بعد امریکی رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔

نائب صدر پینس نے گابریئل کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اُنہیں بتایا کہ وہ جرمن شہر میونخ میں سترہ سے لے کر اُنیس فروری تک منعقد ہونے والی سالانہ سکیورٹی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ آیا وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھی میونخ سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کریں گے، یہ بات تو واضح نہیں ہے البتہ ٹلرسن جرمنی ہی کے شہر بون میں گروپ جی ٹوئنٹی کی وُزرائے خارجہ کانفرنس میں ضرور شرکت کریں گے، جو میونخ کانفرنس سے بھی پہلے منعقد ہونے والی ہے۔

USA Sigmar Gabriel trifft Rex Tillerson (picture-alliance/dpa/B. von Jutrczenka)

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن (دائیں) اور جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل (بائیں) کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کا ایک منظر

ٹلرسن نے امریکی وزیر خارجہ کے طور پر اپنے عہدے کا حلف بدھ یکم فروری کو اٹھایا تھا جبکہ گابریئل کو گزشتہ ہفتے جرمنی کی وزارتِ خارجہ کا قلمدان سونپا گیا تھا۔ اس اعتبار سے یہ ملاقات دو ایسے وُزرائے خارجہ کے درمیان تھی، جنہوں نے تازہ تازہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔

ان ملاقاتوں کے دوران گابریئل نےآزاد اور منصفانہ تجارت کے حق میں بات کی اور یوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مختلف نقطہٴ نظر کا اظہار کیا، جو امریکی منڈی کے دروازے بیرونی دُنیا کے لیے بند کر دینا چاہتے  ہیں۔

امریکی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے دوران گابریئل نے روس کے معاملے میں اس بات پر زور دیا کہ اگر مِنسک امن عمل میں مشرقی یوکرائن کے حوالے سے کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو روس کے خلاف یورپی یونین کی جانب سے عائد پابندیاں ختم کی جا سکتی ہیں:’’جواب میں کسی نے بھی اس بات کی مخالفت نہیں کی۔‘‘

ٹرمپ نے ابتدا میں ان پابندیوں کو ختم کرنے کی بات کی تھی تاہم جمعرات کو اقوام متحدہ میں نئی امریکی سفیر نے ایک مختلف اشارہ دیا، جب اُنہوں نے یوکرائن میں روس کی ’جارحانہ کارروائیوں‘ کی پُر زور الفاظ میں مذمت کی۔

USA Außenminister Gabriel in Washington (picture alliance/dpa/B. von Jutrczenka)

جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل واشنگٹن میں ڈی ڈبلیو اور دیگر جرمن نشریاتی اداروں کے صحافیوں کو امریکی قائدین کے ساتھ بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کر رہے ہیں

گابریئل نے اس دورے کے دوران بحر اوقیانوس کے آر پار قریبی شراکت کے لیے بھی زور دیا اور کہا کہ سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے کوئی سے بھی دو خطّے ایک دوسرے سے اتنے قریب نہیں ہیں، جتنے کہ امریکا اور جرمنی اور یورپی یونین۔

نائب صدر مائیک پینس اور گابریئل نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو پر بھی بات کی، جو نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نزدیک ’فرسودہ‘ ہو چکا ہے۔ وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ان دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ نیٹو کے تمام رکن ملکوں کو اس اتحاد کی جانب اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔ اپنے دورے کے دوسرے روز گابریئل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتیریش سے ملاقات کر رہے ہیں۔