1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن وزیر خارجہ کا دورہء ایشیا

جرمنی اور جاپان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے حصول میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے گزشتہ روز جاپان کے وزیراعظم یوکیو ہاتو یاما سے ٹوکیو میں ملاقات کی۔

default

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے اور جاپانی وزیر خارجہ کاٹ سویا اوکاڈا

حال ہی میں وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالنے والے گیڈو ویسٹر ویلے کا یہ پہلا دورہ ء ایشیا ہے۔ جرمن وزیر نے جاپانی حکام سے دو طرفہ اور عالمی سطح کے اہم ترین معاملات پر بات کی۔ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت سمیت، افغانستان میں قیام امن اور دوبارہ بحالی، ایران کا جوہری تنازعہ، تخفیف اسلحہ و ماحول کے تحفظ کی عالمی کوششیں ان میں سے چند ایک ہیں۔ دونوں ممالک کی نئی حکومتوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔

Guttenberg mit Hamid Karsai in Kabul, Afghanistan

جرمن وزیر دفاع کارل تھیوڈور سو گٹن برگ، افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کرتے ہوئے

شورش زدہ افغانستان میں قیام امن اور دوبارہ بحالی کے لئے جرمنی اور جاپان نے عسکری طاقت پر انحصار کے بجائے سیاسی حکمت عملی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ جرمن وزیر خارجہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اٹھائیس جنوری کو لندن منعقدہ کانفرنس میں محض افغانستان میں اتحادی افواج کی تعداد پر غور نہیں ہونا چاہیے۔ خیال رہے کہ افغانستان میں جرمنی کے تقریباً ساڑھے چار ہزار فوجی تعینات ہیں۔ جاپان کے آئین کے تحت ٹوکیو حکومت کو البتہ بیرونی ممالک فوج بھیجنے کی اجازت نہیں لہذا ان کی جانب سے افغانستان کے لئے مالی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

ایران کا ذکر کرتے ہوئے جاپانی وزیر خارجہ کاٹ سویا اوکاڈا نے کہا کہ ٹوکیو حکومت جوہری تنازعے کے سفارتی حل کے لئے پر امید ہے۔ انہوں نے البتہ واضح کردیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو جاپان، ایران پر پابندیوں کی حمایت کرے گا۔ واضح رہے کہ جاپان، توانائی کی ضروریات کی خاطر پندرہ فیصد تیل ایران سے برآمد کرتا ہے۔ دوسری جانب جرمنی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے ہمراہ ایران کے جوہری معاملے کے سفارتی حل کی براہ راست کوششوں میں مصروف ہے۔

Weltsicherheitsrat verurteilt Nordkorea

اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت کے حصول کی دوڑ میں بھارت اور برازیل بھی شامل ہیں

ٹوکیوحکومت کی طرف سے عالمی سطح پر تخفیف اسلحہ کی کوششوں میں جرمنی کی بھرپور شمولیت پر زور دیا گیا۔ ایشیائی ممالک کے دورے پر موجود جرمن وفد کے ایک رکن کے بقول، جاپانی وزیر اعظم یوکیو ہاتو یاما نے رواں برس کو تخفیف اسلحہ کی ضمن میں ممکنہ طور پر فیصلہ کن سال قرار دیا۔ رواں برس اپریل میں جوہری سلامتی کے معاملے پر واشنگٹن میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوگی جبکہ مئی میں نیویارک میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدےNPT پر نظر ثانی سے متعلق ایک کانفرنس منعقد ہوگی۔

ویسٹر ویلے کا کہنا تھا کہ تخفیف اسلحہ موجودہ عہد کا ایک اہم ترین مسئلہ ہے، جرمنی اور جاپان عالمی سطح پر اسلحے میں کمی کے حامی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوال یہ ہے کہ مل کر اس سلسلے میں کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کی دوڑ میں جرمنی اور جاپان کے علاہ بھارت اور برازیل بھی شامل ہیں۔ عالمی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لئے اس ادارے کی مستقل رکنیت کسی بھی ملک کے لئے انتہائی اہم ہے۔ ویسٹر ویلے نے ٹوکیو میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس سلسلے میں برلن حکومت کی خواہش کا احاطہ بھی کیا۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM