1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن وزیر خارجہ سوڈان میں، امداد کے وعدے

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے جنوبی سوڈان کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اس ملک کے 9 جولائی کو مجوزہ اعلانِ آزادی کے بعد جرمنی بھی اس کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

default

خرطوم: جرمن وزیر خارجہ سوڈان کے نائب صدر علی عثمان کے ساتھ

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے آج جمعے کو جنوبی سوڈان کے تین لاکھ آبادی والے آئندہ دارالحکومت جبہ میں کئی دوسری اہم شخصیات کے ساتھ ساتھ نامزد صدر سیلوا کیر سے بھی ملاقات کی۔ قبل ازیں ویسٹر ویلے نے اپنے دورہ سوڈان کے دوران ابھی تک کے مشترکہ دارالحکومت خرطوم میں کہا تھا کہ اب اس علاقے میں کوئی نیا تنازعہ پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ جرمن وزیر خارجہ اپنے اس دورے کے دوران متنازعہ اور جنگ زدہ علاقے دارفور میں بھی گئے ، جہاں ان کا کہنا تھا: ’’ایک طرف تو میں یہاں دارفور میں مصائب کے شکار افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آیا ہوں۔ دوسری جانب میرا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایک جامع سیاسی عمل کا آغاز کیا جائے۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ ہم پر خلوص ثالث ہیں۔‘‘

اس سے پہلے خرطوم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا زور دے کر کہنا تھا کہ شمالی اور جنوبی سوڈان کی تقسیم کے بعد تمام تر مسائل پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کئے جائیں۔

Außenminister Westerwelle im Sudan

خرطوم: ویسٹر ویلے اپنے ہم منصب علی احمد سے ہاتھ ملاتے ہوئے

جرمن وزیر خارجہ کے اس پیغام سے پہلے شمالی اور جنوبی سوڈان متنازعہ علاقے Abyei کو غیر فوجی قرار دینے پر اتفاق کر چکے ہیں لیکن ابھی بھی کئی تنازعات کو حل کرنا باقی ہے۔ اسی طرح مستقبل میں تیل کی آمدنی اور موجودہ حکومت کے قرضوں کی تقسیم کے بارے میں بھی کوئی اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔ جرمن وزیر خارجہ نے نامزد صدر سیلوا کیر کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ نو جولائی سے جنوبی سوڈان کے قیام کے ساتھ ہی تمام مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ انتظامی اور سیاسی مشکلات کا آغاز تو اس کے بعد شروع ہوگا۔

جواب میں کیر نے جرمنی سے ’ہر شعبے میں امداد‘ کی درخواست کی اور کہا کہ جنوبی سوڈان کو خاص طور پر ریاستی ڈھانچوں اور معیشت کے شعبے میں جرمنی کی مدد کی ضروت ہو گی۔ کیر نے، جو ماضی میں باغیوں کے قائد بھی رہ چکے ہیں، جرمن ہتھیاروں کی فراہمی کی بھی درخواست کی، جسے جرمن وزیر خارجہ نے ایک ’مذاق‘ سے تعبیر کیا۔

9 جولائی کو جنوبی سوڈان کی شمالی سوڈان سے علیٰحدگی کے اعلان کے بعد مستقبل میں سوڈان اور جنوبی سوڈان کے نام سے دو ملک سامنے آئیں گے۔ اس طرح بر اعظم افریقہ میں ممالک کی تعداد 53 سے 54 ہو جائے گی۔

اگرچہ سوڈان قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے تاہم اس کا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ 40 ملین افراد پر مشتمل یہ ملک جرمنی سے سات گنا بڑا ہے۔ شمالی سوڈان کی زیادہ تر آبادی مسلمان ہے جبکہ جنوبی سوڈان میں زیادہ تر مسیحی آباد ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان دونوں گروہوں کے مابین لڑائی میں اب تک دو ملین سے زیادہ انسان ہلاک ہو چکے ہیں۔ کئی برسوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد سن 2005 میں ایک امن معاہدہ کیا گیا تھا، جس کے تحت رواں برس جنوری میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے جنوبی سوڈان کی علیٰحدگی کے حق میں فیصلہ ہوا تھا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: امجد علی

DW.COM