1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن وزیر خارجہ: تنقید کی زد میں

جرمن وزير خارجہ ويسٹر ويلے پر داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ یہ تنقيد کی بھی جاری ہے وہ جنوبی امريکہ کےدورے ميں اپنے بھائی کے کاروباری ساتھی کو بھی ہمراہ لے کر گئے تھے۔

default

جرمنی کی مخلوط حکومت ميں شامل چھوٹی جماعت فری ڈيمو کريٹک پارٹی ايف ڈی پی سے تعلق رکھنے والے وزير خارجہ گيڈو ویسٹر ويلے پر يہ الزام لگايا جارہا ہے کہ وہ جرمنی کے خارجہ سياست کے مفادات ميں اپنے نجی اور پارٹی مفادات کو شامل کررہے ہيں۔ تاہم اُنہوں نے جنوبی امريکہ کے چھ روزہ سرکاری دورے ميں اپنے ساتھ جانے والے وفد پراپوزيشن کی تنقيد کو خود پراور اپنے گھرانے پر ذاتی حملہ قرار ديا ہے۔ ويسٹر ويلے نے کہا: ’’جنوبی امريکہ کا دورہ بہت کامياب رہا ہے اور يہ جرمنی اور جرمن خارجہ

Flagge von Uruguay und Außenminister Westerwelle

جرمن وزیر خارجہ اور یوراگوئے کا جھنڈا

پاليسی کے حق ميں بہت اچھا ہے۔ جرمنی ميں مجھ پر جو بہتان باندھے جارہے ہيں اور پارٹی سياست کے تحت جو الزام تراشياں کی جارہی ہيں،اُن کی کوئی اہميت نہيں ہے‘‘۔

ايف ڈی پی کے جنرل سيکريٹری کرسٹيان لنڈنر نے کہا ہے کہ اس قسم کے الزامات جمہوريت کے لئے خطرہ ہيں۔اُنہوں نے يہ بھی کہا کہ وزير خارجہ ويسٹر ويلے پر تازہ ترين الزامات اور اُن خيالات کے درميان ايک تعلق ہے جن کا اظہار ويسٹر ويلے نے حال ہی ميں رياست کے سماجی فلاحی ڈھانچے اور اخراجات کے بارے ميں کيا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ ويسٹر ويلے کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے باوجود سماجی فلاحی رياست کے مستقبل اور ہماری سياست کے سماجی معاشرتی معيار کے بارے ميں بحث ضروری ہے۔

تاہم ويسٹر ويلے پر الزامات کی بوچھاڑ ہورہی ہے۔ اخبار Berliner Zeitung نے لکھا ہے کہ ويسٹر ويلے ايسے تاجروں اور صنعتکاروں کو غير ملکی دوروں ميں ساتھ لے جاتے ہيں جن کے، اُن کے بھائی کائی اور اُن کے رفيق حيات ميشائيل مرونس کے ساتھ تعلقات ہيں جو اسپورٹس مقابلوں کے مننيجر

Guido Westerwelle trifft Lula da Silva in Brasilien

جرمن وزیر خارجہ اور برازیل کے صدر

ہيں۔اپوزيشن نے ان رپورٹوں پر حيرت ظاہر کی ہے۔ ايس پی ڈی کی جنرل سيکريٹری آندريا نالس نے کہا:

"اس سے اقرباء پروری کی بو آتی ہے۔ ايک وزيرخارجہ کو اپنے نجی اور پارٹی مفادات کو رياستی مفادات اور فرائض سے جدا رکھنا چاہئے۔ "

جرمنی کی اپوزيشن کی ايک اور جماعت گرين پارٹی کی پارليمانی قائد ريناتے کيون آست نے کہا کہ ويسٹر ويلے جرمنی اور وزارت خارجہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہيں۔ دی لنکے نامی اپوزيشن پارٹی کی نائب سربراہ گزينے لوچ نے کہا کہ اپنے خاندان کے لوگوں کو اس طرح سے مالدار بنانا کرپشن ہے اور ايک بدعنوان سياستدان کو بد عنوان کہنے کی اجازت ہونا چاہئے۔

جرمن وزارت خارجہ نے ان الزامات کی ترديد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزيرخارجہ کے دورے ميں ان کے ہمراہ جانے والے تاجروں اور صنعتکاروں کو اُن کی پيشہ ورانہ صلاحيتوں کی وجہ سے چنا گيا تھا۔ جرمن چانسلر ميرکل نے بھی اپنے وزيرخارجہ کی حمايت کی ہے۔

رپورٹ شہاب احمد صدیقی

ادارت افسر اعوان

DW.COM