1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن وزیرِ خارجہ کی طرف سے لیبیا پر کڑی تنقید

وفاقی جرمن وزیرِ خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے لیبیا کی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لیبیا نے اپنے شہریوں کے خلاف تشدد جاری رکھا تو اس کے خلاف پابندیاں ناگزیر ہو جائیں گی۔

default

جرمن وزیرِ خارجہ ویسٹر ویلیے

یورپی یونین نے لیبیا پر پابندیاں لگانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ستائیس ممالک پر مشتمل یورپی یونین میں سے جرمنی اور فن لینڈ نے لیبیا پر پابندیوں کی تجویز پیش کی ہے تاہم اٹلی اور مالٹا نے ان ممکنہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے وہ لیبیا پر پابندیاں عائد کرے اور اس کے ساتھ اقتصادی اور معاشی تعلقات فوری منقطع کرے۔

Unruhen in Libyen

ہیومن رائٹس راچ کے مطابق لیبیا میں اب تک تین سو افراد ہلاک کیے جا چکے ہیں

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور یونانی وزیرِ اعظم پاپاندریو نے برسلز میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیبیا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے شہریوں پر تشدد کا استعمال ترک کر دے ورنہ یورپی یونین لیبیا پر اقتصادی اور دیگر پابندیاں بھی عائد کر سکتی ہے۔ ان رہنماؤں نے معمر قذافی کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ منگل کے روز کی گئی تقریر انتہائی خوفناک تھی اور اس میں قذافی نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف ایک طرح کا اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے لیبیا کی حکومت پر مظاہرین کے خلاف طاقت کے خونریز استعمال پر شدید تنقید کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ لیبیا کی حکومت اپنے عوام کے جائز مطالبات پورا کرے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق لیبیا میں سرکاری تشدد کے نتیجے میں اب تک کم از کم تین سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Pro Gaddafi Protest Libyen Flash-Galerie

مظاہروں نے لیبیا کی حکومت کو ہلا کے رکھ دیا ہے

یورپی رہنما معمر قذافی پر سفری پابندیوں اور ان کے اثاثے منجمد کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ سن 2008 سے پہلی مرتبہ شروع ہونے والے لیبیا اور یورپی یونین کے دوطرفہ مذاکرات کو منقطع کرنے پر بھی یورپی یونین غور کر رہی ہے۔

دوسری جانب بعض مبصرین کا موقف ہے کہ اگر یورپی یونین نے لیبیا پر پابندیاں عائد کیں تو اس سے لیبیا میں اس رائے کو تقویت مل سکتی ہے کہ قذافی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے پیچھے مغربی ممالک کا ہاتھ ہے۔

دریں اثناء بیشتر یورپی ممالک نے لیبیا سے اپنے شہریوں کا انخلاء شروع کر دیا ہے۔

رپورٹ: شامل شمس

ادارت: مقبول ملک

DW.COM