1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن وزیرخارجہ کی اسرائیلی صدر سے ملاقات، قیام امن کی کوششوں میں تیزی

غزہ تنازعہ کےحل کے لئے جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے اسرائیلی صدر شعمون پریس سے ملاقات کی۔ یروشلم میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماوں نے غزہ جنگ بندی کے لئے مختلف پہلووں پر غور کیا۔

default

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر اوراسرائیلی صدر شمعون پیرییس

وفاقی جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے اپنے مشرق وسطی دورے کے دوران مصری حکام کو دعوت دی کہ برلن حکومت مصری سرحدوں کے راستے غزہ میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکنے کےلئے خدمات مہیا کر سکتی ہے۔ قاہرہ میں مصری صدرحسنی مبارک سے ملاقات کے بعد انہوں نے رفاہ سرحد کا دورہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ جرمن ماہرین مصری پولیس کو تربیت دیں گے جس سے ان کی استعداد کاری میں اضافہ ہو گا۔

اپنے دو روزہ دورہ مشرق وسطی کے دوران جرمن وزیر خارجہ غزہ میں جنگ بندی کے لئے علاقائی رہنماوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ہفتے کے دن شٹائن مائر نے فلسطینی صدر محمود عباس اور عرب لیگ کے صدر امر موسی سے بھی ملاقات کی۔ اس کے علاوہ وہ اپنی اسرائیلی ہم منصب زپی لیونی اوراسرائیلی وزیردفاع اے ہود باراک سے بھی ملاقات کریں گے۔

Außenminister Frank-Walter Steinmeier und Tzipi Livni

جرمن ویزر خارجہ اپنی اسرائیلی ہم منصب زپی لیوینی کے ساتھ

قاہرہ میں مصری صدر حسنی مبارک سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ کی موجودہ انسانی صورتحال اس بات کا تقاضا کر تی ہے کہ تمام یورپی اور عالمی برادری غزہ میں پائیدار، مستقل اور موثر جنگ بندی کے لیے کوششیں کریں۔

حماس جنگجووں اور اسرائیلی افواج کی طرف سے سلامتی کونسل کی جنگ بندی کی قرارداد کو مسترد کرنے کے بعد جرمنی نے بھی مشرق وسطی میں قیام امن کی کوششوں میں براہ راست حصہ لیتے ہوئے اپنے وزیر خارجہ کو مشرق وسطی روانہ کیا۔

اس سے قبل جرمن حکام نے کہا تھا کہ غزہ پٹی میں جرمن افواج کی تعیناتی بین الاقوامی امن مشن کے تحت ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں جرمن وفاقی وزیر برائے خارجہ امور Gernot Erler نے اپنے نشریاتی انٹرویو میں کہا کہ تاہم اس کے لئے فلسطین اور اسرائیل کوباضابطہ درخواست کرنا ہو گی۔