1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن وزیرخارجہ مشرق وسطیٰ میں

وفاقی جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلے اپنے تین روزہ مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران علاقے میں ایک پائیدار امن کے قیام کے لئے کوششوں میں تیزی لانے پر زور دیں گے۔

default

جمعے کے روز لبنانی دارالحکومت پہنچنے پرجرمنی کی مخلوط حکومت میں شامل دوسری سیاسی جماعت فری ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ ویسٹرویلے نے لبنانی وزیراعظم سعد حریری سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ویسٹرویلے نے کہا :’’جرمنی لبنان سمیت تمام مشرق وسطیٰ کو مستحکم اورپرامن دیکھنا چاہتا ہے۔‘‘ وزیراعظم سعد حریری نے لبنان کے ساحلوں پر تعینات جرمن فوج کے مشن میں توسیع پر زور دیا۔ جرمن فوج کے اس مشن کی مدت آئندہ ماہ یعنی جون کے آخر میں ختم ہو جائے گی۔ جرمن وزیرخارجہ نے جواب میں لبنانی حکام کو یقین دلایا کے جرمنی اس معاملے میں سنجیدگی اور ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے کوئی فیصلہ کرے گا۔ ویسٹر ویلے ہفتے کے روز لبنان کے ساحلوں پر متعین اقوام متحدہ کے بحری ٹاسک فورس UNIFIL میں شامل جرمن فوجی دستے سے ملاقات کریں گے۔

Libanon / Hariri / Westerwelle

ویسٹرویلے نے لبنانی وزیراعظم سعد حریری سے ملاقات کی

اس مشن میں شامل جرمن فوجیوں کی ذمہ داری لبنانی ساحلوں کی حفاظت کرنا اورعسکریت پسند شعیہ تنظیم حزب اللہ کی طرف سے اسلحے کی اسمگلنگ پر کڑی نظررکھنا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں UNIFIL میں شامل جرمن فوجی دستے 2006ء سے تعینات ہیں۔ دراصل جرمنی کی سابقہ حکومت کے دورمیں فری ڈیمو کریٹ سیاستدان گیڈو ویسٹرویلے نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے، مشرق وسطیٰ کے لئے UNIFIL میں جرمن فوجی دستوں کی تعیتانی کی مخالفت کی تھی۔ اس وقت اس مشن میں جرمنی کے 240 فوجی شامل ہیں۔

گزشتہ موسم خزاں میں برسر اقتدار آنے والی نئی جرمن حکومت میں وزیرخارجہ اور نائب چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد گیڈو ویسٹرویلے کا مشرق وسطیٰ کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ اس بار اس دورے پر ان کے ساتھ فری ڈیمو کریٹک پارٹی کے پارلیمانی دھڑے کی خاتون سربراہ ’برگٹ ہومبُرگر بھی ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ مشرق وسطیٰ کے اس دورے کے دوران خطے میں امن کے قیام کے لئے امریکی کاوشوں کو تقویت دینے کی کوشش کریں گے۔ اب تک اسرائیل اور فلسطین کے مابین بالواسطہ مذاکرات عمل میں لائے گئے ہیں۔ ایک اور اہم موضوع، جس پر جرمن وزیر مشرق وسطیٰ کے ممالک سے بات چیت کریں گے ’ ایران کا متنازعہ ایٹمی پروگرام‘ ہے۔

ویسٹر ویلے کے اس دورے کی اگلی منزل مصر ہے تاہم یہ امر ابھی واضح نہیں کہ آیا وہ مصری صدر حُسنی مبارک سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔ حسنی مبارک حال ہی میں اپنے علاج کے سلسلے میں جرمنی آئے ہوئے تھے۔ یہاں ان کا پتّے کا آپریشن ہوا تھا اور وہ جرمنی سے صحت یاب ہو کر اپنے وطن لوٹے تھے۔

ویسٹر ویلے اپنے اس دورے کے آخری روز یعنی اتوار کو اُردن اور شام جائیں گے۔ اُردن میں ان کی ملاقات فرمانروا عبداللہ دوم، جبکہ شام میں صدر بشار الاسد سے متوقع ہے۔

رپورٹ : کشور مصطفیٰ

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM