جرمن وزير خارجہ کا دورہ ايران، علاقائی و عالمی امور زير غور | حالات حاضرہ | DW | 03.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن وزير خارجہ کا دورہ ايران، علاقائی و عالمی امور زير غور

جرمن وزير خارجہ کے دورہ ايران کے موقع پر دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی کے ليے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کيا ہے۔

ايرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ جرمنی اور ايران علاقائی و عالمی سطح کے مسائل کے حل کے ليے تعاون بڑھا سکتے ہيں۔ يہ بات ايران کی سرکاری نيوز ايجنسی IRNA کے ذرائع سے بتائی گئی ہے۔ روحانی نے کہا، ’’دہشت گردوں کو اسلحے اور مالی وسائل کی فراہمی روکنے کی ضرورت ہے۔‘‘ ايرانی صدر حسن روحانی نے يہ باتيں بدھ تين فروری کے روز جرمن وزير خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر کے دورے کے موقع پر کہيں۔

جرمن وزير خارجہ عالمی طاقتوں اور تہران کے مابين ايران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حل کے ليے طے پانے والی ڈيل کے بعد ايران کا دورہ کر رہے ہيں۔ اسی ڈيل کے تناظر ميں گزشتہ ماہ ايران پر سے مغربی پابندياں اٹھا لی گئيں۔ پابنديوں کے خاتمے کے بعد جرمنی ايران کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دينا چاہتا ہے۔ کئی سالوں تک لاگو مغربی پابنديوں کے سبب ايرانی معيشت خاصی کمزور ہو چکی تھی اور اب اسے بيرونی سرمايہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ جرمنی ايران کی اسی ملين افراد پر مشتمل منڈی ميں آئندہ پانچ سالوں ميں اپنی برآمدت کو بڑھا کر دس بلين يورو تک پہنچانے کی توقع رکھتا ہے۔

يہ امر اہم ہے کہ شامی بحران کے حل کے ليے بھی ايران کا تعاون لازمی ہے۔ اشٹائن مائر ايران کا دورہ ايک ايسے موقع پر کر رہے ہيں، جب کافی بين الاقوامی کوششوں کے نتيجے ميں سوئٹزرلينڈ کے شہر جنيوا ميں شامی اپوزيشن اور حکومت کے مابين امن مذاکرات جاری ہيں۔ جرمن وزير خارجہ کے ساتھ ايک مشترکہ پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ايرانی وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے کہا کہ امن مذاکرات اچھی ابتداء ہيں ليکن پيش رفت ان کے خواہش کے مطابق نہيں۔

دريں اثناء اپنے دورہ ايران کے موقع پر صدر حسن روحانی سے ملاقات ميں اشٹائن مائر نے ان پر زور ديا کہ وہ آئندہ اپنے دورہ يورپ کے دوران جرمنی کا دورہ کرنے کے بارے ميں بھی سوچيں۔

ايران کے دورے کے بعد فرانک والٹر اشٹائن مائر کی اگلی منزل سعودی عرب ہو گی۔ رياض حکومت نے گزشتہ ماہ تہران کے ساتھ تمام روابط منقطع کر ليے تھے۔ يہ پيش رفت سعودی عرب ميں ايک شيعہ مذہبی رہنما کو سزائے موت ديے جانے کے بعد تہران ميں سعودی سفارت خانے پر مشتعل مظاہرين کے دھاوے کے بعد ہوئی تھی۔