1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن وزير تعليم کا تربيت يافتہ تارکين وطن بلانے کا مطالبہ

جرمن وزير تعليم آنيتے شاوان نے ملکی معيشت کی ترقی کے لئے ايسے تارکين وطن کو ملک ميں لانے کا مطالبہ کيا ہے جو پيشہ ورانہ مہارت رکھتے ہوں اور تعليم يافتہ ہوں۔

default

جرمنی کی صنعتکار اور تاجر برادری نے وزير تعليم کے مطالبے کی حمايت کی ہے۔ شاوان نے تارکين وطن کے تعليم يافتہ طبقے کی تعريف کرتے ہوئے اسے جرمنی کا چيدہ ترک گروپ قرار ديا۔

وزير تعليم شاوان نے جرمنی ميں مقيم تارکين وطن کو معاشرے ميں بہتر طور پر شامل کرنے کی بھی حمايت کی۔ انہوں نے فوکس نامی جريدے کے نمائندے سے باتيں کرتے ہوئے کہا: " تارکين وطن ہمارے ملک کی دولت ہيں اور ہميں ان کی ضرورت ہے۔ "

جرمن وزير تعليم نے کہا کہ جرمنی کو اپنی اقتصادی ترقی کی خاطر غير ملکی تربيت يافتہ افراد کے لئے خود کو پر کشش بنانا پڑے گا۔ ليکن انہوں نے تارکين وطن کو صرف ملکی ضرورت پوری کرنے والے افراد کی حيثيت دينے سے خبردار کيا۔

ايک جرمن اکنامک ريسرچ انسٹيٹيوٹ کے مطابق اگر حکومت تربيت يافتہ اور اپنے شعبوں ميں ماہر تارکين وطن کے ملک ميں داخلے کے قوانين کو نرم بنا دے، تو اس سے سن 2020 ء تک مجموعی قومی پيداوار ميں 100 ارب يورو کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ روزگار کی عالمی منڈی کے ماہر اوليور کوپل نے کہا کہ چانسلر انگیلا ميرکل کی کرسچن ڈيمو کريٹک پارٹی کو بلآخر حقيقت کا سامنا کرنا چاہئے،’’اپنے شعبوں کے ماہرين تارکين وطن کی آمد کے قوانين کو نرم بنائے بغير ملک ميں تربيت يافتہ ماہرين کی کمی ميں اضافہ ہوتا رہے گا، جس سے جرمن صنعت کی تجارتی مقابلے کی صلاحيت کو نقصان پہنچے گا۔‘‘

جرمنی کی مخلوط حکومت ميں شامل فری ڈيمو کريٹک پارٹی کے روزگار کے شعبے کے ماہر يوہانس فوگل نے بھی اخبار ويلٹ آم زونٹاگ ميں جرمنی کی ’غير ذمہ دارانہ اميگريشن پاليسی‘ پر تنقيد کی اور کہا، ’’اگر ملک ميں بے روزگاری مکمل طور پر ختم بھی ہوجائے، تب بھی کثير تعداد ميں ماہرين اور تربيت يافتہ افراد کی ضرورت باقی رہے گی۔ جرمن معاشرے کو دلی طور پر وہ خواہش کرنا چاہئے جو اس کی ضرورت بھی ہے، يعنی تارکين وطن کی آمد ميں اضافہ۔‘‘

Flash-Galerie Nationalspieler Mesut Özil

ترک نژاد جرمن فٹ بالر محسوت اوزل

وزير تعليم آنيتے شاوان نے يہ بھی کہا کہ تارکين وطن کو ايسے عہدوں پر لايا جانا چاہئے، جن کی وجہ سے نوجوانوں ميں ان کے بارے ميں اچھے تاثرات پيدا ہوں اوراس طرح جرمنی کے تارکين وطن کو معاشرے ميں بہتر طور پر شامل کيا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خطرات کی زد ميں آئی ہوئی تارکين وطن اقليت کے کسی کوٹے کی بات نہيں کررہی ہيں، بلکہ يہ ثقافتی تنوع کو تسليم کرنے کا معاملہ ہے۔ شاوان نے جرمنی ميں تارکين وطن کے معاشرتی انضمام کے سلسلے ميں پيش رفت کا بھی اعتراف کيا۔

انہوں نے فوکس ميگزين کو انٹرويو ديتے ہوئے ترک تارکين وطن کے چيدہ طبقے کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تعريف کی۔ انہوں نے اس سلسلے ميں ترک نژاد فٹ بالر مسحود اوزِل اور صوبے لوئر سيکسنی کی خاندانی امور کی وزير آئيگيول ايوزکان کی مثال دی اور اس حقيقت کا بھی حوالہ ديا کہ اعلی معيار کے ہائی اسکولز اور يونيورسٹيوں ميں تعليم حاصل کرنے والے تارکين وطن نوجوانوں منں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا،’’ سن 60 اور 70 کے عشروں ميں مہمان کارکنوں کی جرمنی ميں آمد کے بعد سے يہ پہلا موقع ہے کہ يہاں ايک چيدہ ترک طبقہ پيداہورہا ہے۔‘‘

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM