1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن نوجوان انٹرنیٹ کے دیوانے

ماہرینِ نفسیات کے مطابق کچھ ایسے دیوانے بھی ہیں، جو روزانہ پندرہ پندرہ گھنٹےکمپیوٹر ہی کے ساتھ مصروف رہتے ہیں۔

default

چہرےکا رنگ پھیکا پڑا ہوا، تھکن سے چور آنکھیں اور ہاتھ کپکپاتے ہوئے، یہ حالت ہے، جرمنی میں ایک ملین سے زائد اُن نوجوانوں کی، جنہیں انٹرنیٹ کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ ایک حالیہ سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جرمن نوجوان نسل کمپیوٹر اور ویب کی عادی بنتی جا رہی ہے ۔ عادی بننے سے کیا مراد ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ وہ ہر ہفتے اپنی فارغ وقت میں سے تیس سے چالیس گھنٹے کمپیوٹر کے سامنے گزارتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق کچھ ایسے دیوانے بھی ہیں، جو روزانہ پندرہ پندرہ گھنٹےکمپیوٹر ہی کے ساتھ مصروف رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کھیلوں کے موضوع پر ہونے والی سالانہ کانفرنس میں بھی یہ موضوع شامل تھا کہ کمپیوٹر کا استعمال کب ایک ضرر رساں عادت میں تبدیل ہوجاتا ہے؟

انٹرنیٹ کی عادت کے موضوع کو پہلی مرتبہ 90 ء کی دہائی میں موضوع بنایا گیا۔ شروع میں اِس پر ہلکے پھلکے انداز میں بات کی جاتی رہی، بعد ازاں اس موضوع پر اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ جرمن ماہر نفسیات ویرنر ہیوبنر کے مطابق انٹرنیٹ حقیقی دنیا کے ساتھ ایک متوازی دنیا ہے، جو آہستہ آہستہ آپ سے مزید وقت صرف کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

USA Video und Foto Ausrüstung für Ermittlungsbeamte

انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال کی ایک وجہ ہر گھر میں کمپیوٹر کی موجودگی بھی ہے، ماہرین

سال 2000ء کے بعد سے برلن میں اس بارے میں باقاعدگی سے اعداد و شمار جمع کئے جا رہے ہیں کہ نشے کی حد تک انٹرنیٹ کے عادی افراد کی تعدا د کتنی ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق صرف برلن میں ایسے افراد کی تعداد 10 ہزار ہے۔

انٹرنیٹ کےعادی افراد اپنا زیادہ تر وقت ای میلز، چیٹنگ اور گیمز میں صرَف کرتے ہیں۔ جوکوئی بھی اس کا عادی ہوتا ہے، اسے ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ آن لائن نہ ہونے کی صورت میں وہ کوئی اہم چیز مس کر دے گا۔ اس صورتحال میں وہ بے چین ہوجاتا ہے، گھبرا جاتا ہے اور اُس کا موڈ آف ہو جاتا ہے۔ ماہر نفسیات ویرنر ہیوبنر کہتے ہیں کہ کمپیوٹر کا عادی بنانے میں انٹرنیٹ فلیٹ ریٹ کا بھی بہت بڑا عمل دخل ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہےکہ انسان تنہا ہو جاتا ہے، گھر والوں کے ساتھ مسائل شروع ہو جاتے ہیں اور اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں کارکردگی پر بھی منفی اثر پڑ تا ہے۔ اس سے خاص طور پر نوجوان نسل سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ ماہر نفسیات ویرنر ہیونر نےکہا کہ یہ وہ طبقہ ہے، جس کاشمار اب مزید بچوں میں تو نہیں کیا جاتا لیکن وہ ابھی پوری طرح سے بالغ بھی نہیں ہوئے۔ یہ لوگ عملی زندگی کے لئے ابھی بہت زیادہ تیار بھی نہیں ہوئے ہوتے اور پھر انہیں ایک ایسا ذریعہ ملتا ہےکہ جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے لگتے ہیں۔ اچانک ان کی رسائی ہر طرح کی معلومات تک ہو جاتی ہے۔

انٹرنیٹ کی عادت سے چھٹکارہ حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ کمپیوٹر اب ہماری زندگیوں کا حصہ بن گیا ہے۔ ہم اپنے زیادہ ترکام انٹرنیٹ کے ذریعے ہی کرتے ہیں۔ اس لت سے جان چھڑانے کے لئے سب سے ضروری قدم یہ ہے کہ اس کا عادی یہ بات سمجھ جائے کہ وہ بیمار ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: امجد علی

DW.COM