1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن نوجوانوں کی بیرونی ممالک میں رضاکارانہ کاموں میں دلچسپی

جرمن نوجوانوں میں دوسرے ممالک میں جا کر رضاکارانہ طور پر کام کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔گزشتہ دنوں ایسی ہی خدمات انجام دےکر وطن واپس آنے والے جرمن نوجوانوں کی ایک کانفرنس ہوئی۔

default

جرمنی میں رضاکارانہ طور پر دوسرے ممالک میں کام کرنے کے ٹرینڈ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہر سال سینکڑوں نوجوان ترقی پذیر ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ اس کا مقصد ان ممالک میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ثقافتوں سے آگاہی حاصل کرنا بھی ہے۔ ان میں سے بہت سے نوجوان وفاقی جرمن وزرات برائے ترقیاتی تعاون کے پرگراموں میں حصہ لیتے ہوئے دیگر ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن جب یہ نوجوان جرمنی واپس آتے ہیں توکیا ہوتا ہے؟ ان کے تجربے سے کس حد تک فائدہ اٹھایا جاتا ہے؟ اس موضوع پرگزشتہ دنوں جرمن شہر پوٹس ڈام میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔

’’اور اب آگے کیا!‘‘ کے نام سے ہونے والی اس کانفرنس میں تقریبا ایک سو پچاس نوجوانوں نے حصہ لیا اور اپنے تجربات کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس کانفرنس کا انعقاد دو رضاکارانہ تنظیموں کے تعاون سےکیا گیا تھا۔

Zug der Erinnerung fährt mit Jugendlichen nach Auschwitz

جرمن نوجوانوں میں بیرونی ممالک کی ثقافتوں سے آگاہی کے شوق میں اضافہ

اس کانفرنس میں ایک سو پچاس نوجوانوں نے حصہ لیا۔ یہ نوجوان انتالیس مختلف ممالک میں رضاکارانہ خدمات انجام دے کر جرمنی واپس آئے ہیں۔ کانفرنس پانچ دن جاری رہی جس میں مختلف سیمینارز ، ورکشاپ اور مذاکرے ہوئے۔

کانفرنس میں شرکاء ہر صبح نو بجے اپنے پسندیدہ موضو عات پر بحث و مباحثہ کرتے، ایک دوسرے کے تجربات سنتے اور یہ سب کچھ کانفرنس ہال میں ایک دائرے میں بیٹھ کر کیا جاتا۔ اس دوران ان نوجوانوں نے اس امر بھی بحث کی کہ کس طرح مل کو ایک ایسی دنیا قائم کی جا سکتی ہے ، جہاں انصاف ہو۔

ساتھ ہی ان نوجوانوں نے ترقیاتی امداد، کسٹم قوانین اور سرکاری قرضوں جیسے موضوعات پر بھی زبردست بحث کی۔ ساتھ ہی اس بات بھی غورکیا گیا کہ پرتعیش زندگی کی کیا حدود ہونی چاہییں۔ آج کل کے حالات میں غریب اور امیر کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟ اس بارے میں اگر کسی کا خیال ہے کہ اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تو کسی کے خیال میں سب کو یکساں مواقع حاصل ہونے تک صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔ لیکن 24 سالہ فیلکس ملّر ان تمام باتوں سے متفق نہیں ہیں۔ وہ پانچ سال قبل جنوبی افریقی شہر ڈربن میں تھے۔ فیلکس کے مطابق انہیں وہاں قیام کے دوران جرمنی کی ایک نئی تصویر دکھائی دی اور ساتھ ہی اپنی زندگی کے حوالے سے بھی نئے راز افشا ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں پہلے پائلٹ بن کر معقول پیسے کمانا چاہتا تھا۔ جنوبی افریقہ میں مجھے یہ احساس ہوا کہ مجھے کچھ ایسا کرنا زیادہ اچھا لگے گا ، جس میں میرا انسانوں کے ساتھ رابطہ ہو اور اہم بات یہ ہے کہ انسان جو بھی کرے اس کا کوئی مقصد ہونا چاہیے۔‘‘

فیلکس سوشل مینیجمنٹ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ اس بارے میں بھی غور کرتے ہیں کہ کس طرح دنیا کو رہنے کے لئے ایک بہتر مقام بنایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی وہ خصوصی محفلوں کا بھی انعقاد کرتے ہیں، جنہیں وہ ’ آئیڈیاز کے دن ‘ کا نام دیتے ہیں، تب نوجوان اسی طرح کے موضوعات پر بات چیت کرتے ہیں۔ ’’دنیا کو اپنی مرضی سے تعمیرکیا جا سکتا ہے۔ انسان ایک تخلیق کار ہے اور ہم اپنا مستقبل خود ترتیب دے سکتے ہیں۔ جب بہت سے لوگ ایک ہی آئیڈیا رکھتے ہوں، تو اس خیال کو حقیقی روپ بھی دیا جا سکتا ہے۔‘‘

اس کانفرنس کے منتظمین میں ہول مان بھی شامل ہیں۔ وہ بھی کئی ممالک میں رضاکارانہ خدمات انجام دیے چکے ہیں۔ ان کے خیال میں اس طرح کی کانفرنسوں کے انعقاد سے نئے منصوبوں کے حتمی خاکے و ضع کرنے کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں کو عملی شکل بھی دی جا سکتی ہے۔ جرمن نوجوانوں میں پائے جانے والے اس نئے ٹرینڈ کے بارے میں انہوں کے ہمیں بتایا: ’’رضاکارانہ خدمات انجام دےکر واپس آنے والے ان جرمن نوجوانوں نے اتنے سخت حالات میں وقت گزارا، جن کا عام زندگی میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس دوران اِن نوجوانوں کو جو تجربات ہوئے، وہ آگے چل کر ان نوجوانوں کی پیشہ ورانہ زندگی میں اہم کردار ادا کریں گے۔‘‘

کچھ عرصہ بیرون ملک رضاکارانہ سرگرمیاں انجام دے کر وطن لوٹنے والے بہت سے دوسرے نوجوان بھی نئے نیٹ ورک بنا رہے ہیں۔ ان نیٹ ورکس کی مدد سے اُن نوجوانوں کی رہنمائی کی جائے گی، جو دوسرے ممالک میں جانا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ نیٹ ورکس اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک کے نوجوانوں کی جرمنی آمد کو ممکن بنایا جائے تا کہ وہ یہاں آ کر جرمن ثقافت کو جان سکیں اور یہاں کچھ سیکھ سکیں۔

تحریر: عدنان اسحاق

ادارت: امجد علی