1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن میوزیم کو طیارے کی فروخت پر سینیٹ کمیٹی چراغ پا

پاکستانی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے قومی ایئر لائن کی طرف سے جرمن میوزیم کو طیارہ فروخت کیے جانے کے فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے خلاف ضابطہ قرار دے دیا ہے ۔

اسپیشل پارلیمانی کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی ایئر لائن اس مسئلے پر رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔ کمیٹی کے کنوینرسینیٹر مشاہد اللہ خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پی آئی اے نے کئی رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طیارے کو اونے پونے داموں بیچ دیا ہے۔ لیکن قومی ایئر لائن کے بڑے عہدیدار اس کی تفصیلات نہیں بتا رہے ہیں اور مختلف بہانے بنا رہے ہیں۔ ہم نے پی آئی اے کے سی ای او کو طلب کیا ہے اور وہ نہیں آئے تو میں Privilege motion ان کے خلاف لاؤں گا۔ کمیٹی کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ ان کی عدم حاضری پر وارنٹ جاری کرے لیکن میرا خیال ہے ایسی نوبت نہیں آئے گی اور وہ حاضر ہوجائیں گے۔‘‘

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اے تین سو دس طیارہ ایک جرمن میوزیم کو فروخت کر دیا گیا ہے، جس کو کمیٹی کے کچھ ارکان نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ تاہم اس مسئلے کو سب سے پہلے اٹھانے والے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’اس پورے عمل کے طریقہ کار پر ہمیں شدید اختلاف ہے اور ہم اسے خلافِ ضابطہ قرار دیتے ہیں۔ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا کہ آپ طیارہ کہیں لے جا کر فروخت کریں بلکہ یہ جہاں ہے اور جیسا ہے کہ بنیاد پر بیچا جاتا ہے۔ آپ اسے اپنے فیول، انشورنش اور دیگر اخراجات کے ساتھ لے کر گئے اور ادائیگی سے پہلے ہی طیارہ وہاں پہنچا دیا۔ اگرپی آئی اے کہتی ہے کہ طیارہ پرواز کے قابل نہیں تھا تو اسے مالٹا کیوں بھیجا گیا اور وہاں سے جرمنی کیوں لے جایا گیا۔‘‘

سلیم مانڈی والا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اس طیارے کو ایئر فرانس کے ہائی جیک ہونے کے حوالے سے بننے والی ایک فلم کی شوٹنگ کے لیے مالٹا لے جایا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’اگرفلم فرانس کے حوالے سے ہے تو پی آئی اے کا طیارہ کیوں لے جایا گیا۔ دس سے پندرہ دن وہاں قومی ایئر لائن کے اسٹاف نے قیام کیا جب کہ ملک میں جہاز چلانے کے لیے اسٹاف میسر نہیں ہے۔ طیارہ مالٹا کس کی اجازت سے گیا اور پھر جرمنی کیسے بھیجا گیا۔ اگر یہ پرواز کے قابل نہیں تھا تو اس کو اجازت دے کر سیفٹی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کیوں کی گئی۔ تو اس سارے ہی طریقہ کار پر ہمارے سوالات ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ''اگر پی آئی اے یہ کہتی ہے کہ یہ نہیں بیچا تو پھر طیارہ جرمنی میں کس مقصد کے لیے گیا۔ مالٹا سے جرمنی کا سفر کس کی اجازت سے ہوا۔ یہ جو فیول اور دوسرے اخراجات ہیں وہ تو عوام کی جیب سے ہی جائیں گے۔ میں نے پی آئی اے کے ڈائریکٹر پروکیورمنٹ ایئر کموڈور عمران اختر سے پوچھا کہ کیا آپ پی اے ایف کا طیارہ اس طرح جانے دیں گے، تو ان کا جواب نفی میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا سی ای او کے حکم پر کیا گیا ہے۔ ہم نے آج بھی سی ای او کو بلایا تھا لیکن وہ ملک سے باہر ہیں۔ اب انہیں اگلی میٹنگ میں بلایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اگر نہیں آئے تو وارنٹ جاری کئے جائیں گے۔ یہ کیس نیب میں جانا چاہیے۔ اگر نیب نے خود نوٹس نہیں لیا تو ہم اسے بھیجیں گے۔‘‘

تاہم قومی ایئر لائن کے ترجمان نے طیارے کی فروخت کے حوالے سے چلائی جانے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو ایک تحریری جواب میں بتایا، ’’جہاں تک اے ایک سو تیس جہاز کی فروخت کے حوالے سے سوالات کا تعلق ہے تو برائے مہربانی اس بات کو نوٹ کر لیں کے اس جہاز کو ابھی تک فروخت نہیں کیا گیا ہے۔ ایک جرمن میوزیم نے حال ہی میں گراؤنڈ کئے گئے جہازوں میں سے ایک کو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔جہاز جرمنی میں پی آئی اے کی livery میں رکھا جائے گا، جس سے ہم اپنی ایئر لائن کو یورپ کے دل میں شوکیس کر سکیں گے۔جہاز کی موجودگی سے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان عوامی سطح پر رابطے بڑھیں گے۔‘‘

DW.COM