1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن میوزیم برائے تاریخ، مہاجرت کی چھ دہائیوں کی کہانی

جرمنی کے قومی میوزیم برائے تاریخ ميں گزشتہ چھ دہائیوں سے جرمنی آنے والے مہاجرین کے حوالے سے ایک نمائش کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس نمائش ميں جنوبی یورپی ’مہمان ملازمین‘ سے لے کر مہاجرین کے موجودہ بحران تک موضوعات شامل ہيں۔

اس نمائش میں دوسری عالمی جنگ کے بعد جنوبی یورپی ملکوں سے گیسٹ ورکرز کی جرمنی آمد کے تصویری اظہاریوں کے ساتھ اس وقت یورپ کو درپیش مہاجرین کے ایک بہت بڑے بحران کی عکاسی کی گئی ہے۔ مہاجرين کے نئے بحران میں جرمنی پہنچنے والے پناہ گزينوں کا تعلق عرب ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا کے متعدد دیگر خطوں سے ہے۔

دارالحکومت برلن میں ہونے والی اس نمائش کا موضوع ’کثیرالثقافت: جرمنی، مہاجرت کا ملک‘ رکھا گیا ہے۔ یہ نمائش اس موضوع پر جرمنی میں عموماﹰ دہری رائے اور بدلتے رویوں کی عکاسی کر رہی ہے۔

ہفتے اکيس مئی کے روز اس نمائش کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جس میں سن 1955 میں اس وقت کے مغربی جرمنی میں اقتصادی تعمیرِ نو میں حصہ لینے کے لیے بلائے جانے والے غیر ملکی مزدوروں کا حال بیان کیا گیا ہے، جب کہ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں شام اور عراق سے ہجرت کر کے جرمنی آنے والے لاکھوں مہاجرین کا بھی تفصیلی خاکہ کھینچا گیا ہے۔

Deutschland Türkischer Gastarbeiter 1966

عالمی جنگ کے بعد جرمنی میں بہت سے گیسٹ ورکرز آئے تھے

دوسری عالمی جنگ کے بعد کی جرمن تاریخ سے متعلق بون میں واقع میوزیم کے سربراہ ہانز ہیوٹر کے مطابق اس نمائش کے ذريعے يہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جرمنی کس طرح سے مہاجرین پر انحصار کرنے والا ملک ہے۔ ’’ایک طویل عرصے تک سیاسی رہنماؤں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا یا شاید وہ اس بارے میں کچھ بھی جاننا نہیں چاہتے تھے۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ برس ایک ملین سے زائد مہاجرین جرمنی پہنچے، جن میں ايک بڑی تعداد شامی اور عراقی باشندوں کی تھی۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے گزشتہ برس اگست میں یورپی سرحدی ضوابط کو معطل کرتے ہوئے مہاجرین کے لیے ملکی سرحدیں کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ تب جرمن عوام میں مہاجرین سے متعلق خاصی ہم دردی کے جذبات دیکھے جا رہے تھے تاہم اس ہم دردی میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خاصی کمی بھی دیکھی گئی ہے۔