1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن موٹر ساز ادارےآؤڈی کے سو سال

جرمن موٹر ساز ادارہ آؤڈی ان دنوں اپنے قیام کی ایک سو ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اس موقع پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے شہر انگول شٹٹ میں ایک موبائل میوزیم کا بھی افتتاح کیا۔

default

آؤڈی کمپنی کا چار دائروں والا نشان پہلی مرتبہ 1932ء ہی میں استعمال کیا گیا

یہ بات ہے 1899ء کی، جب آٹو موبائیل انجینئر August Horch جرمن شہر مان ہائم میں قائم موٹر ساز ادارے Carl Benz کے لئےکام کرتے تھے۔ 1909ء میں ہورش نے ایک جھگڑے کے بعد یہ کمپنی چھوڑ دی۔ پھر اسی سال جولائی کے مہینے میں انہوں نے مشرقی جرمنی کے شہر سوی کاؤ میں ایک نئی کمپنی قائم کی، جس کا نام انہوں نے پہلے اپنے ہی نام پر رکھا۔ چونکہ اس نام سے پہلے ہی ایک کمپنی موجود تھی، اس لئے ہورش کو نیا نام سوچنا پڑا۔ کمپنی کا نیا نام تلاش کرنے میں اس کے ایک دوست کے دس سالہ بیٹے نے یہ تجویز پیش کی کہ ہورش کو اپنے نام کا لاطینی زبان میں ترجمہ کرنا چاہیے۔ یہ ترجمہ تھا: آؤڈی اور یوں یہ نام پہلی دفعہ سنا گیا۔

موٹر گاڑیوں کی تاریخ پر نظر رکھنے والے پروفیسر پیٹر کِرش بیرگ کے مطابق 1932ء میں آنے والے مالیاتی بحران کی وجہ سے کئی موٹر ساز ادارے ایک دوسرے میں ضم ہو گئے تھے۔

’’آؤڈی کمپنی کا چار دائروں والا نشان پہلی مرتبہ 1932ء ہی میں استعمال کیا گیا، جس سے مراد اُس وقت کے چار موٹر ساز ادارے تھے، یعنی Audi، DKW، Horch اور Wanderer ۔‘‘

اس طرح 25 اپریل 1910ء کو آؤڈی لمیٹڈ کمپنی کی بنیاد رکھ دی گئی اور اِس نام کی گاڑیاں تیار کرنا شروع کردی گئیں۔ ابتدا میں ہی آؤڈی کار نےآسٹریا کے پہاڑیوں میں ہونے والی ایک مشکل ریس مسلسل تین مرتبہ جیت کر اپنا سکہ جما لیا۔ اس وقت اس ریس کا شمار یورپ کے مشہور ترین مقابلوں میں ہوتا تھا۔

آؤگسٹ ہورش کی اس کامیابی کے پیچھے ان کی محنت اور گاڑیوں میں استعمال کی جانے والی تکنیک تھی۔ ان کی کوشش یہی رہتی تھی کہ اس وقت کی جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔1921ء میں انہوں نے پہلی مرتبہ لیفٹ ہینڈ ڈرائیو گاڑی تیار کی۔

آؤڈی کے خالق ہورش1951ء میں انتقال کر گئے اور کمپنی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 1958ء میں اس وقت کی آؤڈی کو ڈائملر بینز نے خرید لیا۔ 1965ء میں یورپ کے سب سے بڑے موٹر ساز ادارے فولکس ویگن نے یہ کمپنی خرید لی۔ 1976ء میں آؤڈی نے 8 لاکھ سے زیادہ گاڑیاں تیار کیں،جو اس وقت کے لحاظ سے ایک بڑی کامیابی تھی۔ ایک تازہ سروے کے مطابق جرمن موٹر ساز ادارے ڈائملر بینز اور BMW کے بعد آؤڈی کا نام معیاری گاڑیوں کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر لیا جاتا ہے۔ موجودہ مالیاتی بحران کی وجہ سے آؤڈی گاڑیوں کی مانگ میں معمولی سی کمی تو ضرور آئی ہے لیکن پھر بھی یہ موٹرساز ادارہ اپنی ٹیکنالوجی اور نت نئی اختراعات کی وجہ سے مستقبل کے حوالے سے بہت پر امید ہے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : امجدعلی