1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن معیشت کی کارکردگی میں حیران کن ترقی

وفاقی جرمن حکومت کے مطابق پچھلے سال بہت متاثر کن کارکردگی کے بعد ملکی معیشت میں سال رواں کے دوران ترقی کی شرح بھی اب تک کے اندازوں سے کہیں زیادہ رہے گے۔

default

وفاقی وزیر اقتصادیات رائنر بروڈرلے

یورو زون کی ریاستوں کو ان دنوں یورپی مشترکہ کرنسی سے متعلق بحرانی حالات کا سامنا ہے لیکن یورپ کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت جرمنی کی معیشت میں ترقی کی شرح غیر معمولی حد تک زیادہ ہے، جس پر کئی ملکوں میں حیرانی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جرمن معیشت کی سال 2011ء کے دوران کارکردگی سے متعلق تازہ ترین سرکاری اندازوں میں کہا گیا ہے کہ اس سال یورپ کے آبادی کے لحاظ سے اس سب سے بڑے ملک میں معاشی ترقی کی شرح 2.3 فیصد رہے گی۔ یہ شرح 1.8 فیصد ترقی کی اس متوقع سالانہ شرح کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جس کا اندازہ گزشتہ برس اکتوبر میں لگایا گیا تھا۔

اقتصادی ماہرین اس بات پر قدرے حیران ہیں کہ دنیا کی بہت بڑی معیشتوں میں شمار ہونے والا ملک جرمنی کس طرح نہ صرف حیران کن انداز میں عالمی مالیاتی بحران کے اثرات سے نکل رہا ہے بلکہ اس کی کارکردگی بھی مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔

NO FLASH EU Fahne Flagge Europäische Union

اس بارے میں وفاقی وزیر اقتصادیات رائنر بروڈرلے نے بدھ کے روز برلن میں کہا کہ ملکی معیشت میں یہ بہتری مستحکم بنیادوں پر دیکھنے میں آ رہی ہے اور یہ ایک ایسا رجحان ہے جو بظاہر خود بخود ہی جاری رہے گا۔

رائنر بروڈرلے کے مطابق روزگار کی ملکی منڈی میں نئی ملازمتوں کے مزید مواقع پیدا ہونے کا امکان بہت قوی ہے، جو ملک میں بے روزگاری کی موجودہ شرح میں آئندہ مزید کمی کا سبب بنے گا۔

وفاقی جرمن حکومت کو یہ توقع بھی ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ملک میں بے روزگاری کی شرح، جو سن 2010 میں 7.7 فیصد رہی تھی، اس سال مزید کم ہو کر مجموعی افرادی قوت کے سات فیصد تک رہ جائے گی۔ رائنر بروڈرلے کے بقول سال رواں کے دوران جرمنی میں قومی بجٹ میں خسارہ بھی مجموعی قومی پیداوار کے صرف 2.5 فیصد کے برابر تک رہ جائے گا۔

سن 2010 میں جرمنی کی اقتصادی کارکردگی میں ترقی کی شرح 3.6 فیصد رہی تھی، جو کئی عشروں بعد اتنی زیادہ رہی تھی۔ سال رواں کے لیے بھی بہت اچھے اندازوں کے ساتھ ساتھ اگلے سال 2012ء میں یہی شرح 1.8 فیصد رہنے کی امید ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس