1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن معیشت میں بہتری کی وجوہات پر تحقیق مرتب

جرمن انسٹيٹيوٹ برائے اقتصاديت نے ايک مطالعہ مرتب کيا ہے جس ميں اس بات کا جائزہ ليا گيا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران ملکی معیشت کی کارکردگی ميں اضافہ خاص طور پر کن عوامل اور شعبوں کے باعث ممکن ہو سکا۔

default

جرمنی کی معیشی ترقی میں اضافےکی علامت

کولون کے انسٹيٹيوٹ برائے جرمن اقتصاديت کے جن ماہرين نے يہ مطالعہ مرتب کيا ہے، ان کا خيال ہے کہ جرمن سياستدانوں کے لئے اس کو پڑھنا لازمی ہونا چاہئے۔ اس انسٹيٹیوٹ کے ڈائریکٹرMichael Hüter نے کہا کہ جمہوريہ جرمنی کے قيام کے بعد سے، سب سے بڑے اقتصادی بحران کے باعث جو اس وقت درپيش ہے، سياست کو اقتصادی پيداوار ميں اضافے اور دولت اور مواقع کی تقسيم ميں زيادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ايک ايسی اقتصادی سياست کے لئے آواز بلند کرنا چاہتے ہيں، جو بحران کے دباؤ اور روزمرہ کے تقاضوں سے بالاتر ہوتے ہوئے طویل المدتی بنیادوں پر سوچے اور منصوبہ بندی کرے، جو اہم مسائل پر توجہ دے اور اس پر غور کرے کہ اقتصادی ترقی ميں کس طرح اضافہ کيا جاسکتا ہے اور رياست کی تنظيم نو کس طرح ہوسکتی ہے۔

انسٹيٹيوٹ برائے اقتصاديت نے معاشی کارکردگی میں اضافے کے لئے چار باتوں کی سفارش کی ہے۔ پہلی يہ کہ ملازمت کے لئے ترغيبات کو بڑھايا جائے۔ بےروزگاری الاؤنس ميں کمی کی جائے تاکہ دوبارہ ملازمت تلاش کرنے کا جذبہ بڑھے، کيونکہ ملازمت مل جانے پر تنخواہ بےروزگاری الاؤنس کے مقابلے ميں واضح طورپر زيادہ ہوگی۔

Hände mit Euromünzen - Symbolbild Inflation

مضبوط معیشت کا راز معاشی منصوبہ بندی ہے

اس ادارے کی دوسری سفارش يہ ہے کہ تعليم پر زيادہ توجہ دی جائے۔ خاص طور پر کم تعليم يافتہ گھرانوں کے بچوں کی شروع ہی سے زيادہ حوصلہ افزائی کی جانا چاہئے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ تعليمی اداروں ميں داخلہ زيادہ آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ رياست کو تعليمی شعبے ميں کوئی بچت نہيں کرنا چاہئے۔

تيسرے يہ کہ رياست کو ٹيکس بڑھائے بغير بجٹ کا خسارہ کم سے کم کرنا چاہئے۔ يہ کس طرح ممکن ہے؟ اس بارے ميں اس انسٹيٹيوٹ کے، اقتصادی اور سماجی امور کے ماہر Kroker نے کہا کہ اس کام کے لئے رياست کے اخراجات ميں کمی ضروری ہے جو آسان کام نہيں ہے۔ اس کا جائزہ ليا جانا چاہئے کہ آیا ملازمين کی تعداد ميں کمی ممکن ہے۔ بچت کی صرف يہی صورت ہو سکتی ہے۔

اس اقتصادی تحقیقی ادارے کے مطابق رياست کو سياست پر دوبارہ اعتماد پيدا کرنے کے لئے بينکوں کی نگرانی کا ايک ايسا ادارہ قائم کرنا چاہئے جو آزاد ہو اور ماہرين کے تحت ہو۔ ايک ایسے قابل اعتماد نظم کی ضرورت ہے جس کی تشکيل ميں رياست بڑی حد تک شريک ہو۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی / Anna Corves

ادارت: مقبول ملک