1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن معاشرے میں مہاجرین کے انضمام کے لیے کوششیں تیز کرنا ہوں گی، پارلیمان

جرمن پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے ملک میں بڑھتے ہوئے مہاجرین مخالف جذبات کے تناظر میں کہا ہے کہ جرمن معاشرے میں مہاجرین کے بہتر انضمام کے لیے کوششوں کو تیز کرنا پڑے گا۔

جمعے کے روز بنڈس ٹاگ کہلانے والے جرمن ایوان زیریں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جرمن ثقافت آزادی اور انسانیت دوستی سے عبارت ہے اور اس کے تحفظ کے لیے مہاجرین کے انضمام سے متعلق نئے پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ ایک برس کے دوران مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے قریب ایک ملین مہاجرین جرمنی میں داخل ہوئے، تاہم بعض طبقے ان مہاجرین کو جرمن معاشرے کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔

جرمن ایوانِ زیریں کی جانب سے ’ثقافت پل تعمیر کرتی ہے‘‘ نامی اعلامیہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب جرمنی میں مہاجرین مخالف پارٹی آلٹرنیٹیو فار جرمنی مقبولیت میں اضافے کے سابقہ ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ جرمنی میں اگلے برس عام انتخابات کا انعقاد ہونا ہے، اور اس تناظر میں مہاجرین کا موضوع ایک کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

اس اعلامیے میں جرمنی کو ’یورپی ثقافتی قوم‘ قرار دیا گیا ہے، جو جدیدیت، آزادی اور انسانیت دوستی کا مرقع ہے۔ پارلیمان کی جانب سے جاری کردہ اس اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دستور اور جدید جرمن ثقافت انسانی وقار کی ضمانت دیتے ہیں۔

پارلیمان میں اس اعلامیے کا مسودہ چانسلر انگیلا میرکل کی قدامت پسند اور اتحادی سوشل ڈیموکریٹک جماعت کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کیا گیا تھا۔ جرمنی کی ان دونوں بڑی جماعتوں کو مختلف ریاستی انتخابات میں AfD کے مقابلے میں کسی حد تک شکست کا سامنا رہا ہے۔

پارلیمانی اعلامیے کے مطابق، ’’ہم اپنے ملک کی بہترین ثقافتی اقدار کا تحفظ چاہتے ہیں، جو شہریوں، ریاستوں اور علاقوں کے تنوع سے جڑی ہیں۔‘‘

اس اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے، ’’جرمن ثقافت مختلف طرز ہائے زندگی، اقدار، مذاہب اور دنیا کو دیکھنے کے متنوع طریقوں کا مجموعہ ہے۔‘‘

اعلامیے کے مطابق، ’’انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں کی جانب سے اس وقت جو راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ تنہائی کی ثقافت اور عدم برداشت کا ہے۔‘‘