1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’جرمن مسلم تنظیمیں بھی اسلام پسندانہ دہشت گردی پر نظر رکھیں‘

وفاقی جرمن وزیر داخلہ تھوماس دے میزیئر نے اپنے ایک انٹرویو میں مطالبہ کیا ہے کہ جرمنی میں اسلام پسندوں کی خونریز دہشت گردی کو روکنے کے لیے ملک میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیمیں بھی سرگرمی سے اپنا کردار ادا کریں۔

Abu Askar Screenshot Video Internet Deutsche Terroristen Deutschland Islamisten (picture-alliance/dpa/Internet)

جرمنی سے اب تک سینکڑوں مسلم شدت پسند داعش کے جنگجوؤں کے طور پر جہاد کے لیے عراق اور شام جا چکے ہیں

جرمن دارالحکومت برلن سے ہفتہ اکتیس دسمبر کو ملنے والی رپورٹوں میں کیتھولک خبر رساں ادارے کے این اے نے لکھا ہے کہ چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (CDU) سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ تھوماس دے میزیئر نے کہا ہے کہ جرمنی کو اس وقت مذہب کے نام پر دہشت گردانہ حملے کرنے والے جن اسلام پسندوں کی وجہ سے شدید قسم کے چیلنج اور خطرات لاحق ہیں، ان کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے لیے جرمنی میں آباد مسلمانوں کی نمائندہ ملکی اور علاقائی تنظیموں کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔

کیتھولک نیوز ایجنسی KNA کے مطابق دے میزیئر نے کہا کہ اس مقصد کے لیے جرمنی میں مسلمانوں کی تنظیموں کو ’اپنے ارد گرد کے ماحول اور اس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ شدت پسند مسلمانوں کی طرف سے پیدا ہونے والے ممکنہ سماجی اور سکیورٹی خطرات کو بھی نگاہ میں رکھنا ہو گا۔‘‘

وفاقی وزیر داخلہ نے فُنکے میڈیا گروپ کے اخبارات اور جرائد میں ہفتے کے روز شائع ہونے والے اپنے اس انٹرویو میں کہا، ’’مجھے امید ہے کہ مستقبل میں بھی ہمارا مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں کے ساتھ قریبی اور بامقصد اشتراک عمل جاری رہے گا تاکہ جرمنی میں آباد مسلمانوں میں ہر قسم کی ممکنہ مذہبی شدت پسندی کا نتیجہ خیز انداز میں سدباب کیا جا سکے۔‘‘

Salafisten in Deutschland (picture-alliance/dpa/ W.Steinberg)

برلن کے تاریخی برانڈن برگ گیٹ کے سامنے سخت گیر سلفی نظریات کے حامل مسلمانوں کے ایک مقامی گروپ کا مظاہرہ

اپنے اس انٹرویو میں دے میزیئر نے یہ اعتراف بھی کیا کہ جرمنی میں ایسے مسلمان مجموعی طور پر اقلیتی مسلم آبادی میں بھی محض ایک چھوٹی سی اقلیت ہیں، جو بنیاد پرستانہ مذہبی رجحانات کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔

ساتھ ہی وزیر داخلہ نے اس بارے میں افسوس کا اظہار بھی کیا کہ جرمنی میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں کا یہاں رہنے والے مسلمانوں کی زندگیوں پر سماجی اثر و رسوخ اور اس کے اثرات ’بہت زیادہ نہیں‘ ہیں۔

DW.COM