1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن مسلمانوں پر پُرتشدد حملوں میں اضافہ

جرمن حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے پُرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے لیکن بہت کم واقعات میں مسلم مخالف نفرت انگیز جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں دی گئیں۔

جرمنی میں اس برس اپریل اور جون کے درمیان سولہ مسلمان اسلاموفوبیا پر مبنی حملوں کے باعث زخمی ہوئے۔ اس کے مقابلے میں سال کے ابتدائی تین ماہ کے دوران ملک بھر میں ایسے صرف دو واقعات پیش آئے تھے۔

ہم دشمن نہیں: پاکستانی تارک وطن کا اسلاموفوبیا سے متعلق موقف

برطانیہ: مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف جرائم میں اضافہ

وفاقی حکومت نے یہ اعداد و شمار جرمن پارلیمان میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی رکن اُولا یلپکے کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جاری کیے ہیں۔ یلپکے کے دفتر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ رواں برس کی دوسری سہ ماہی کے دوران جرمنی میں اسلاموفوبیا پر مبنی تیرہ پرتشدد حملے کیے گئے جن میں سولہ مسلمان زخمی ہوئے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک واقعے کے سوا سبھی میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد ملوث تھے۔

پرتشدد حملوں میں اضافے کے علاوہ بھی جرمنی میں ان تین ماہ کے دوران اسلاموفوبیا پر مبنی قریب دو سو واقعات رجسٹر کیے گئے ہیں۔ ایسے واقعات میں عمارتوں کو نقصان پہنچانے سے لے کر مسلمان مخالف جذبات اور نفرت پھیلانے جیسے جرائم شامل ہیں۔

بائیں بازو کے نظریات رکھنے والی جرمن سیاسی جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں مہاجرین مخالف جرائم میں کمی ہوئی ہے ’لیکن مہاجرین کے خلاف نسل پرستی پر مبنی جرائم کے برعکس خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنا کر کیے جانے والے جرائم میں اضافہ ہوا ہے‘۔

خاتون رکن پارلیمان کا کہنا تھا، ’’ان واقعات سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ جرمنی میں بسنے والے مسلمان خاص طور پر انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کا ہدف بن رہے ہیں۔‘‘ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے یلپکے کا مزید کہنا تھا، ’’اس بات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہ دہشت گردی اور نفرت پر مبنی جرائم کس نے کیے، ان واقعات کی ہمیشہ اور ہر صورت میں مذمت کی جانا چاہیے۔‘‘

جرمنی میں مسلمان کمیونٹی کی تنظیم آئی جی ایم جی نے ان اعداد و شمار کو خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرمن حکام ’ان واقعات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اقدامات کرے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، ’’اسلاموفوبیا کے خلاف واضح اقدامات کیے جانا چاہیں۔‘‘

دوسری جانب برلن حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مہاجرین اور اسلام مخالف تنظیم ’پیگیڈا‘ کے مظاہروں میں شرکا کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ ڈریسڈن میں اس تنظیم کے ہفتہ وار مظاہرے کو حکومت نے اسلاموفوبیا پر مبنی مظاہرہ قرار نہیں دیا لیکن نیو نازیوں کی جانب سے مئی کے مہینے میں جرمنی کے مشرقی حصے میں ایک مسجد کی تعمیر کے خلاف کیے گئے مظاہرے کو دوٹوک الفاظ میں ’اسلاموفوبیا پر مبنی مظاہرہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

جرمنی: مسلمانوں کے خلاف تعصب میں اضافہ

ہنگری میں مساجد کی تعمیر اور اذان پر پابندی کے خلاف احتجاج

ویڈیو دیکھیے 02:48

مہاجرین اور مسلمان مخالف جرمن پارٹی کی مقبولیت بڑھتی ہوئی

DW.COM

Audios and videos on the topic