1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن مزاح نگار میرکل کو عدالت میں لے جانا چاہتے ہیں

طنز و مزاح کے حوالے سے مشہور جرمن فنکار ژان بوہمر مان نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دی ہے۔ بوہمر مان کے بقول میرکل کو ان کی نظم کے حوالے سے اپنا بیان واپس لینا چاہیے۔

برلن کے اخبار ٹاگس اشپیگل کے مطابق بوہمر مان کے وکیل کرسٹیان شیرٹز نے چانسلر دفتر کے نام خط میں لکھا ہے’’ انگیلا میرکل نے میرے مؤکل کے کام کا قانونی طور پر جائزہ لیا ہے، جو کسی مقدمے کی سماعت کے برابر ہے۔‘‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ژان بوہمر مان کی جانب سے ترک صدر رجب طیب ایردوآن پر لکھی جانے والی نظم کو’توہین آمیز‘ قرار دیتے ہوئے اسے دانستہ طور پر کسی کے جذبات مجروح کرنے سے تعبیر کیا تھا۔

اس خط میں مزید لکھا ہے کہ بوہمر مان کی طنزیہ نظم پر میرکل کا بیان غیر قانونی تھا کیونکہ اس وقت ان کے مؤکل کے خلاف ابتدائی چارہ جوئی جاری تھی،’’ میرکل کا بیان سنگین نتائج کا باعث بنا تھا‘‘۔

وکیل کرسٹیان شیرٹز نے اس سلسلے میں میرکل کو ان کی تنقید واپس لینے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے وگرنہ اس معاملے کو عدالت میں لے جایا جائے گا۔

بوہمرمان کی نظم، ’جرمن حکمران اتحاد منقسم‘

’ایردوآن پر نظم تضحیک آمیز لیکن آزادیٴ رائے پھر بھی مقدم‘

ایردوآن جرمن کامیڈین کی نظم پر مکمل پابندی کے خواہاں

بوہمرمان کی یہ نظم31 مارچ 2016ء کو جرمن ٹی وی ZDF پر نشر کی گئی تھی۔ اس میں ایک طرف تو ایردوآن کی’سخت آمرانہ پالیسیوں‘ کا مذاق اڑایا گیا تھا، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’ایردوآن چائلڈ پورنوگرافی دیکھتے ہیں اور جانوروں کے ساتھ جنسی افعال انجام دیتے ہیں‘۔

اس کے بعد گزشتہ برس مئی میں ہی ہیمبرگ شہر کی ایک عدالت نے ژان بوہمرمان کی اس نظم کو فن و اظہار کی آزادی کے قانون کے تحت ایک مزاحیہ نظم قرار دیا تھا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ اس نظم میں ایردوآن کے جنسی افعال کے حوالے دینا ایک ’برا‘ اور ’ہتک آمیز‘ معاملہ بھی ہے۔

DW.COM