1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن لیڈر ایک نابالغ لڑکی کے باعث مستعفی

وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین (CDU) کو اتوار کو ایک بڑا دھچکہ برداشت کرنا پڑا، جب اُس کے ایک علاقائی رہنما کو ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ تعلقات کی بناء پر اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔

کرسٹیان فان بوئٹیشر

کرسٹیان فان بوئٹیشر

جرمن صوبے شلیزوک ہولشٹائن میں CDU کے 40 سالہ چیئرمین کرسٹیان فان بوئٹیشر نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ اپنی جماعت کو مزید کسی دھچکے سے بچانے کے لیے اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ یہ اعلان کرتے ہوئے اُن کی آواز جذبات سے مغلوب تھی اور ایسا لگتا تھا کہ ابھی اُن کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑیں گے۔

جرمنی کے اس انتہائی شمالی صوبے میں مئی 2012ء میں صوبائی پارلیمان کے انتخابات ہونے والے ہیں اور بوئٹیشر کو 64 سالہ موجودہ وزیر اعلیٰ پیٹر ہیری کارسٹینسن کا جانشین نامزد کیا جا چکا تھا۔ اب بوئٹیشر کے استعفے سے اس جماعت کی صوبائی شاخ ایک بڑے قیادتی بحران کا شکار ہو گئی ہے۔

ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ بوئٹیشر کا تعلق غیر قانونی تو نہیں تھا لیکن اُن کی قدامت پسند جماعت میں اِس تعلق کے خلاف اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔

وزیر اعلیٰ پیٹر ہیری کارسٹینسن

وزیر اعلیٰ پیٹر ہیری کارسٹینسن

پارٹی کے سرکردہ قائدین کا ایک ہنگامی اجلاس صوبائی دارالحکومت کِیل میں منعقد ہوا، جس کے بعد CDU کے حکام نے بتایا کہ بوئٹیشر صوبائی اسمبلی میں CDU کے حزب کے قائد کے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔ اس صوبے میں CDU فری ڈیموکریٹک پارٹی FDP کے ساتھ مخلوط حکومت تشکیل دیتے ہوئے برسرِاقتدار چلی آ رہی ہے۔

اِس ہنگامی اجلاس کے بعد CDU کی ڈپٹی لیڈر انجلیکا فولکوارٹس نے بتایا: ’’کرسٹیان فان بوئٹیشر نے کہا ہے کہ اُن سے اِس تعلق کے اخلاقی پہلو کا درست اندازہ لگانے میں غلطی ہوئی ہے۔‘‘

گزشتہ جمعے کو رائے عامہ کے ایک سرکردہ جائزے کے نتائج جاری ہوئے ہیں، جن کے مطابق عوامی حمایت کے سلسلے میں چانسلر انگیلا میرکل کی یونین جماعتوں CDU/CSU اور FDP پر مشتمل دائیں بازو کی موجودہ مخلوط حکومت بائیں بازو کی اعتدال پسند جماعتوں سوشل ڈیموکریٹس اور گرینز کی کسی ممکنہ مخلوط حکومت سے بہت پیچھے ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس