1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

جرمن قومی فٹ بال ٹیم ، ایشیائی ملکوں کے دورے پر

فٹ بال ایک ایسا کھیل ہے کہ ہر ملک میں اِس کی ترویج اور مقبولیت کے لئے مسلسل کوششیں ہو رہی ہوتیں ہیں۔ جرمن ٹیم کا چین اور متحدہ عرب امارت کا موجودہ دورہ اِن ملکوں میں فٹ بال کھیل کی مقبولیت میں اضافے کا باعث ہو گا۔

default

چین کی فٹ بال ٹیم کے خلاف جرمن فارورڈ لوکاس پوڈلسکی گول کرنے کے قریب

فٹ بال دنیا کا مقبول ترین کھیل تصور کیا جاتا ہے۔ اِس کی پسندیدگی کے دائرے میں ایک معتبر نام جرمنی کا بھی ہے جو سابقہ عالمی چیمپئن رہ چکا ہے۔ جرمن فٹ بال ٹیم کا شمار برسوں سےدنیا کی بہترین ٹیموں میں ہوتا ہے۔ اِِس کا اندازہ اُس کی عالمی درجہ بندی میں دوسری پوزیشن سے لگایا جا سکتا ہے۔

جرمنی میں قومی فٹ بال چیمپئن شپ، بنڈس لیگا کی تکمیل کے بعد قومی فٹ بال ٹیم نے ایشیا کا دورہ شروع کردیا ہے۔ جرمن ٹیم کی پہلی منزل چین تھا جہاں شنگھائی میں چین کی قومی ٹیم کے ساتھ ایک دوستانہ میچ کھیلا گیا۔

Fußball, Länderspiel, China - Deutschland 1:1

جرمن ٹیم کےخلاف گول کرنے کے بعد چینی کھلاڑی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے۔

جرمن ٹیم اپنی شہرت کے مطابق اس میچ کو جیتنے میں فیورٹ قرار دی جا رہی تھی مگر وہ بمشکل میچ برابر رکھنے میں کامیاب رہی۔ میچ شروع ہونے کے بعد چین کے فارورڈ کھلاڑی Hao Junmin نے پانچ منٹ بعد ہی گول کیپر Robert Enke کے سر پر سے گیند پھینک کر گول کردیا۔ سبقت حاصل کرنے کے بعد چینی کھلاڑیوں کے حوصلے مزید بلند ہو گئے۔ چینی ٹیم کے گول کے دو منٹ بعد ہی جرمن ٹیم کو میچ برابر کرنے کا موقع حاصل ہوا۔ لوکاس پوڈولسکی نے گول کردیا۔ اِس گول کے بعد میچ کو برابر رکھنے میں جرمن ٹیم کو خاصی ہمت اور محنت کرنا پڑی۔ پہلے گول کے بعد جرمن گول کیپر کو اپنے گول کے دفاع میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہ رہا۔

Fußball, Länderspiel, China - Deutschland 1:1 Flash-Galerie

میچ کے دوران شانگھائی سٹیڈیم کا منظر

لوکاس پوڈولسکی کا یہ 33 واں بین الاقوامی گول تھا جو انہوں نے باستیان شوائن شٹائگر کی مدد سے کیا۔ جرمنی کی طرح چین کی قومی فٹ بال ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کی جگہ نئے نوجوان کھلاڑیوں کو بھی موقع دیا گیا۔

میچ کے دوران چین کے نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ چین عالمی درجہ بندی میں 97 ویں پوزیشن پر ہے۔ چین کے کوچ Gao Hongbo کا خیال ہے کہ اُن کی ٹیم سن 2014 کے عالمی کپ کو کھیلنے کے لئے کوالیفائی کر لے گی۔ چین کی فٹ بال ٹیم اگلے برس، سن 2010 میں جنوبی افریقہ میں کھیلے جانے والے عالمی کپ کے لئے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

دوسری جانب جرمن ٹیم کے کوچ Joachim Loew کا خیال ہے کہ قومی فٹ بال لیگ کے بعد جرمن کھلاڑیوں کو اپنے کھیل میں تال میل پیدا کرنے میں کچھ مشکلات کا سامنا تھا۔ جرمن کوچ نے چینی ٹیم کے کھیل کو بھی شاندار قرار دیا۔

جرمن فٹ بال ٹیم اپنے موجودہ دورہٴ ایشیا کے اگلے مرحلے میں متحدہ عرب امارت پہنچ رہی ہے جہاں اگلے منگل کو دُبئی میں وہ ایک دوستانہ میچ کھیلے گی۔

عالمی درجہ بندی میں اسپین کی فٹ بال ٹیم کو پہلی پوزیشن حاصل ہے۔ جرمنی کی دوسری اور ہالینڈ کی تیسری پورزیشن ہے۔ برازیل چوتھے اور عالمی چیمپئن اٹلی پانچویں مقام پر ہے۔