1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

جرمن قومی سٹار فٹ بالر کی روسی کلب میں شمولیت

جرمنی کی قومی فٹ بال ٹیم کے سٹار کھلاڑی کیون کورانی یورپ میں فٹ بال کے اگلے سیزن میں جرمن کلب شالکے کے بجائے روسی کلب ڈائنامو ماسکو کی طرف سے کھیلیں گے۔

default

28 سالہ کورانی نے جرمنی میں فٹ بال کی قومی چیمپیئن شپ بنڈیس لیگا کا ہفتہ کو ختم ہونے والا حالیہ سیزن جرمن کلب شالکے کی طرف سے کھیلا تھا اور یہ کلب بنڈیس لیگا کے سیزن دو ہزار نو، دو ہزار دس میں بائرن میونخ کے بعد دوسرے نمبر پر رہا تھا۔

ایک کامیاب فارورڈ کھلاڑی کے طور پر اب تک جرمن قومی ٹیم اور مختلف کلبوں کی طرف سے کھیلتے ہوئے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کورانی نے ذاتی طور پر اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ وہ دوہزار دس، دو ہزار گیارہ کے سیزن میں ڈائنامو ماسکو کی طرف سے کھیلیں گے۔

Bundesliga letzter Spieltag

بنڈیس لیگا میں کورانی نے شالکے کی پوزیشن مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا

کیون کورانی نے اپنے اس فیصلے کے حوالے سے انٹرنیٹ پر اپنی ویب سائٹ پر ایک اعلان کرتے ہوئے لکھا: ’’میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے اس سوال پر بے یقینی سے سر ہلانے لگیں گے کہ کیون کورانی ماسکو میں کیا کرنا چاہتا ہے؟ لیکن میں نے ہمیشہ ہی کہا ہے کہ میں کہاں کھیلوں گا، اس سلسلے میں پورے کا پورا پیکیج قابل قبول ہونا چاہیے۔ مجھے ڈائنامو ماسکو کی طرف سے اپنے لئے پیکیج میں یہی بات نظر آئی، جس میں ظاہر ہے کہ ایک پہلو مالیاتی بھی تھا۔ اس کے علاوہ اگر میں کوئی اور دعویٰ کروں تو وہ واضح طور پر بے ایمانی اور منافقت ہو گی۔‘‘

کیون کورانی کا جرمن کلب شالکے کے ساتھ موجودہ معاہدہ اسی سال تیس جون کو ختم ہو جائے گا۔ وہ شالکے سے پہلے جرمنی میں شٹٹ گارٹ کی طرف سے بھی کھیلتے رہے ہیں۔

جنوبی افریقہ میں جون سے شروع ہونے والے فٹ بال کے عالمی کپ کے لئے جرمن ٹیم میں شمولیت کے حوالے سے کیون کورانی کے بارے میں ایک طویل بحث کئی ہفتوں تک جاری رہی تھی۔ اس بحث کے اختتام پر ابھی حال ہی میں جرمن ٹیم کے کوچ یوآخم لؤو نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کورانی کو جنوبی افریقہ جانے والی جرمن ٹیم میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

کیون کورانی کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ڈائنامو ماسکو کے علاوہ کئی دیگر بڑے یورپی فٹ بال کلب بھی ان کی خدمات کو خرید لینے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ان میں استنبول کے دو کلب Fenerbahce اور Besiktas کے علاوہ انگلینڈ میں مانچسٹر سٹی نامی کلب بھی شامل تھا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف توقیر