’جرمن قوانین ‘ اب ہندو بھی دفنائیں گے | معاشرہ | DW | 01.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’جرمن قوانین ‘ اب ہندو بھی دفنائیں گے

جرمنی میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو آخری رسومات ادا کرنے کے لیے ایک قبرستان میں جگہ دی گئی ہے۔ یہاں پر اب مُردوں کی راکھ کو دفنایا جا سکے گا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے ہام شہر کی انتظامیہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک سرکاری قبرستان میں تقریباً دو ہزار مربع میٹر جگہ ملک میں آباد ہندو برادری کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی قبرستان میں ہندوؤں کو کوئی جگہ دی گئی ہے۔ روایتی طور پر ہندو مذہب میں مردے کو جلا کر اس کی راکھ کو قریبی دریا میں بہا دیا جاتا ہے۔ تاہم جرمن قوانین میں راکھ دریا میں بہانے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم اسی وجہ سے ہندو برادری کو یہ جگہ دی گئی ہے تاکہ وہ پہاں اپنے مردوں کی راکھ کو دفنا سکیں۔

Der neue hinduistische Tempel Sri Kamachi Allayam Hindu, in Hamm

کماچی امپل جرمنی کا سب سے بڑا مندر ہے

جرمنی میں کیتھولک مسیحیوں کی ایک بڑی تعداد بھی اپنے مردوں کو جلاتی ہے اور پھر بعد میں راکھ کو دفن کر دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں تقریباً ہر قبرستان میں راکھ کو دفن کرنے کی جگہ بنائی گئی ہے اور یہ قبریں بھی بہت چھوٹی سی ہوتی ہیں۔

اس منصوبے کی سربراہی ہام شہر کے شری کماچی امپل مندر کے پنڈت کر رہے تھے۔ کماچی امپل جرمنی کا سب سے بڑا مندر ہے۔ ہر سال مختلف تقریبات میں شرکت کرنے کے لیے ہزاروں افراد اس مندر کا رخ کرتے ہیں۔ اس نئی پیش رفت کے تناظر میں مندر انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہندو برادری کو راکھ دفنانے کے لیے جگہ کا مختص کیا جانا ایک سنگ میل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا لاش جلانے کی سروس تمام مذاہب اور عقائد سے تعلق رکھنے والے اُن افراد کو بھی مہیا کیے جائیں گے، جو اپنے مردوں کو جلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔