1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن قاتل نرس زیادہ ہلاکتوں میں ملوث ہو سکتا ہے، پولیس

جرمنی میں دو مریضوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے مرد نرس نیل ایچ پر شبہ ہے کہ وہ دیگر چوراسی افراد کو بھی ہلاک کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اسے سن دو ہزار پندرہ میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے جرمن پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ شبہ ہے کہ نیل ایچ دیگر چوراسی افراد کو ہلاک کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اولڈنبرگ کی عدالت کے مطابق فروری سن 2015 میں اس نے دو مریضوں کو انجیکشن لگا کر موت کی نیند سلا دی تھی۔ تب اس پر قتل، اقدام قتل اور مریضوں کو جسمانی طور پر نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہو گئے تھے۔

چالیس سالہ نیل پر اگر یہ تازہ الزامات بھی ثابت ہو جاتے ہیں تو اس طرح وہ جرمنی کا سب سے بڑا سیریئل کلر بن جائے گا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ان افراد کی باقیات کے نمونے حاصل کیے جائیں، جن کا نیل نے علاج کیا تھا۔

شمالی جرمن شہر اولڈنبرگ کے پولیس سربراہ یوہان کیوہمے نے ڈی پی اے کو بتایا ہے کہ عدالتی حکم پر ابتدائی چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔

اٹھائیس اگست بروز پیر صحافیوں سے گفتگو میں یوہان کیوہمے نے مزید کہا کہ پولیس کو شبہ ہے کہ اس مجرم کے ہاتھوں موت کے منہ میں جانے والے افراد کی حقیقی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

Deutschland Prozess um ehemaligen Krankenpfleger Niels H. (picture alliance/dpa/I. Wagner)

اس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں سو سے زائد مردہ افراد کی باقیات کے نمونے لیے جا چکے ہیں

تاہم نیل کے زیر علاج رہنے والے مریضوں کو مرنے کے بعد جلا دیا گیا تھا، اس لیے اس کیس کی چھان بین میں کچھ مشکلات حائل ہو سکتی ہیں۔

سن دو ہزار پندرہ میں جب سابق نرس نیل کے خلاف قتل کے مقدمے کی شروعات ہوئی تھی تو تب اس نے اعتراف کیا تھا کہ وہ زیادہ لوگوں کی ہلاکت میں ملوث رہا تھا۔

اسی اقبال جرم پر پولیس نے ایک خصوصی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے اپنے تفتشی دائرہ کار کو وسیع کر دیا تھا۔ اب تک اس چھان بین کے تحت ہزاروں میڈیکل ریکارڈز کا تجزیہ کیا جا چکا ہے جبکہ سو سے زائد مردہ افراد کی باقیات کے نمونے لیے جا چکے ہیں۔