1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

جرمن فٹ بال ٹیم نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں

جرمنی کی قومی فٹ بال ٹیم نے یورو کپ کے کوالیفائنگ مقابلوں میں اپنے تمام دس میچ جیت کر مخالفین کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔

default

ترک نژاد جرمن مڈ فیلڈر محسوت اوزل

یورپ بھر کی بہترین ٹیمیں 8 جون سے یکم جولائی تک پولینڈ اور یوکرائن میں منعقد ہو رہے یورو کپ 2012ء میں ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔ پولینڈ اور یوکرائن میزبان ہونے کے ناطے پہلے ہی ان مقابلوں کے لیے کوالیفائی کرچکے ہیں جبکہ جرمنی، اسپین، ہالینڈ، اٹلی، روس، ڈنمارک، فرانس، یونان اور برطانیہ نے اپنے اپنے گروپ میں سرفہرست رہتے ہوئے ان مقابلوں میں جگہ بنائی ہے۔

اسی طرح ترکی، آئرلینڈ، سویڈن، ایسٹونیا، بوسنیا ہرزیگووینیا، کروشیا، مونٹی نیگرو اور پرتگال میں سے چار ٹیموں کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ پلے آف مقابلے جیت کر یورو کپ 2012ء میں شریک ہوسکتی ہیں۔

جرمن ٹیم نے گزشتہ شب بیلجیم کو ایک کے مقابلے میں تین گول سے مات دی۔ اس میچ میں جرمنی کے لیے ان کے ترک نژاد مڈ فیلڈر محسوت اوزل نے ایک گول خود کیا اور دوسرے میں سٹرائیکر ماریو گومِز کو اہم معاونت فراہم کی۔ جرمن ٹیم کا تیسرا گول نوجوان کھلاڑی آندرے شؤرلی نے کیا۔

Flash-Galerie Fussball Gruppe A EM 2012 Qualifikation Deutschland Türkei

جرمن ٹیم کے کوچ یوآخم لیوو

بیلجیم کو ہرانے کے بعد جرمن ٹیم کے کوچ یوآخم لیوو کا کہنا تھا، ’یہ میچ جیت کر ہم یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ہم آخر تک لڑیں گے، ہر جیت کے ساتھ آپ کو مزید قدر ملتی ہے‘۔ اس سے قبل 1982ء کے عالمی کپ کے لیے کھیلے گئے کوالیفائنگ مقابلوں میں بھی جرمنی نے اپنے تمام آٹھ میچ جیتے تھے۔

جرمن ٹیم اگلے سال کے یورو کپ کو اپنے نام کرنے کے لیے فرانس، یوکرائن اور ہالینڈ کے ساتھ شیڈیول دوستانہ میچوں پر نگاہیں مرکوز کیے ہوئے ہے۔ یوکرائن اور ہالینڈ کے ساتھ جرمن ٹیم کے میچز اگلے ماہ منعقد ہوں گے جبکہ فرانس کے ساتھ فروری میں میچ کھیلا جائے گا۔ یاد رہے کہ جرمنی 1996ء کی یورپی چیمپئن ہے۔

موجودہ یورپی اور عالمی چیمپئن اسپین نے بھی اپنے کوالیفائنگ مقابلوں میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ جرمنی کی دس فتوحات کے مقابلے میں اسپین کو محض آٹھ کوالیفائنگ میچز کھیلنا پڑے، جو تمام اس کی جیت پر ہی ختم ہوئے۔ جرمن کوچ یوآخم لیوو کا کہنا ہے کہ وہ محض اسپین کو ہی سخت حریف تصور نہیں کر رہے، ’میں یورپی چیمپئن شپ کے حوالے سے ایک چیز واضح کرنا چاہتا ہوں، جو کوئی اس اعزاز کے لیے جرمنی اور فرانس کے درمیان حتمی معرکے کی باتیں کرتا ہے، اور بھی بہت ٹیمیں خطرناک ہیں‘۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس