1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن فوج کے کئی مراکز بند کرنے کا فيصلہ

جرمنی کے بہت سے شہروں اور بلدياتی حلقوں کے ليے يہ ايک سياہ دن ہے۔ اُنہوں نے اس کی لاحاصل کوشش کی تھی کہ ان کے علاقوں ميں جرمن مسلح افواج کی چھاؤنياں، دفاتر اور مراکز بند نہ کيے جائيں۔

وزير دفاع دے مزيئر

وزير دفاع دے مزيئر

 ليکن جمعرات 27 اکتوبر کی صبح جرمن وزارت دفاع سے آنے والی خبروں نے ان شہروں اور علاقوں کی اميدوں پر پانی پھير ديا۔

وزارت دفاع نے مسلح افواج کے 31 مراکز مکمل طور پر بند کر دينے کا فيصلہ کيا ہے۔ ان ميں سے بعض خاصے بڑے بھی ہيں، مثال کے طور پرجنوبی صوبے باويريا ميں ائر فورس کے افسروں کی تربيت کی مشہور اکيڈمی اور گليوکس برگ ميں بحريہ کے کمانڈ سينٹر کو بند کر دينے کا فيصلہ بھی کر ليا گيا ہے۔ ان مراکز کی ذمہ دارياں اور کام دوسرے مراکز کو منتقل کر ديے جائيں گے۔

زگمانگن ميں جرمنی کی روايتی فوجی چھاؤنی کے تقريباً 1800 فوجيوں کو بھی آج جمعرات 27 اکتوبر کی صبح ہی کو يہ اطلاع ملی کہ انہيں دوسری چھاؤنيوں ميں جانا پڑے گا کيونکہ ان کی چھاؤنی بند کی جا رہی ہے۔ دريائے ڈينيوب کے کنارے واقع اس چھوٹے سے شہر کے کاريگروں اور ہنر مندوں کو چھاؤنی کے بند ہونے سے معاشی نقصان کا انديشہ ہے۔ جرمنی کی مخلوط حکومت کی بڑی پارٹی سی ڈی يو سے تعلق رکھنے والے وزير دفاع ٹومس دے مزيئر نے کہا: ’’ کسی بھی ادارے کو بند کرنا يا اُس کے عملے ميں کمی کرنا ايک تکليف دہ بات ہوتی ہے۔‘‘

ايک جرمن فوجی يونٹ

ايک جرمن فوجی يونٹ

وزارت دفاع کی طرف سے ملک کے بہت سے فوجی اداروں اور مراکز کو بند کرنے کے عمل ميں بعض فوجی روايات کو بھی دھچکہ لگ رہا ہے ليکن يہ اصلاحات ناقابل گزيرسمجھی جاتی ہيں۔ وزير دفاع نے يہ بھی کہا: ’’فوج کسی جگہ کی پابند نہيں، بلکہ اُس کا کام اسے سونپی گئی ذمہ داريوں کو عمدگی سے اور با کفايت طور پر پورا کرنا ہے۔‘‘

ان اقدامات کا تعلق براہ راست جرمن مسلح افواج کی تعداد سے ہے۔ فو جيوں کی تعداد کو کم کرکے صرف ايک لاکھ 85 ہزار کر ديا جائے گا۔ اس وقت جو فوجی ادارے اور مراکز کام کر رہے ہيں، انہيں بہت زيادہ اور مہنگا سمجھا جاتا ہے۔اس سال لازمی فوجی سروس کے خاتمے کے نتيجے ميں 55 ہزار ملازمتيں کم ہو گئی ہيں۔ مزيد 30 ہزار ملازمتيں ختم ہو جائيں گی۔

جرمن مسلح افواج کی چھاؤنياں اور مراکز پورے ملک ميں پھيلے ہوئے ہيں تاکہ عسکری اصطلاح ميں فوج ’ علاقے ميں موجود ‘ ہو۔ اس اصول کو آئندہ بھی برقرار رکھا جائے گا۔ صرف چند بڑے مقامات پر توجہ مرکوز کرنے کا ارادہ نہيں کيا گيا ہے۔ وزير دفاع دے مزيئر نے ’ بند کرنے کے مقابلے ميں تخفيف کو ترجيح دينے ‘ کے اصول کو سامنے رکھا ہے۔ اسی کے تحت بہت سے فوجی مراکز کو بند کرنے کے بجائے اُن ميں کمی کر دی جائے گی۔ ديکھا جائے تو بند ہونے والے مراکز کی جو 31 کی مجموعی تعداد ہے، وہ اتنی زيادہ نہيں ہے۔ وزير دفاع کے گنتی کے طريقے کے مطابق 264 فوجی چھاؤنياں اور مراکز باقی رہيں گے۔ اس ميں انہوں نے چھوٹے مراکز کو شمار نہيں کيا ہے۔

ايک جرمن چھاؤنی کا گيٹ

ايک جرمن چھاؤنی کا گيٹ

جرمن فوج کے ڈھانچے ميں بالکل اعلٰی ترين سطح تک اصلاحات کا منصوبہ ہے جنہيں سن 2017 تک مکمل کر لينے کا پروگرام ہے۔

رپورٹ: نينا ويرک ہوئزر / شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM