1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن فوج میں ساٹھ ممکنہ اسلام پسندوں کے بارے میں چھان بین

جرمن حکومت نے جولائی سن دو ہزار سترہ کے لیے فوج میں بھرتی کیے جانے والے تمام فوجی کیڈٹس کی چھان بین کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ جرمن فوجی انٹیلیجنس ادارے کی فوج میں ممکنہ اسلام پسندوں کی نشاندہی پرکیا گیا ہے۔

Deutschland Logo Bundeswehr Karriere mit Zukunft (Imago/IPON)

جرمن فوج میں ساٹھ ممکنہ اسلام پسندوں کے بارے میں چھان بین کی جائے گی

 جرمن میڈیا گروپ ’فنکے ‘ کے مطابق یہ فیصلہ جرمن فوجی انٹیلیجنس ایجنسی ’ایم اے ڈی‘ کی جانب سے جرمن مسلح افواج میں بیس ممکنہ اسلام پسندوں کی نشان دہی پر کیا گیا ہے۔ ’فنک‘ کے ترجمان نے اِس تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے مزید ساٹھ ممکنہ مقدمات زیرِ تفتیش ہیں۔

  ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اِس حوالے سے قانون سازی کے مسودے پر آنے والے ہفتوں میں جرمن پارلیمنٹ میں غور کیا جائے گا جس کے بعد  تمام کیڈٹس کے بارے میں چھان بین کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔ اس اقدام کے ذریعے عسکریت پسند گروہ اسلامک اسٹیٹ کی جرمن فوج میں در اندازی اور ہتھیاروں کی تربیت حاصل کرنے کی کوششوں کا سّدباب کیا جاسکے گا۔

جرمن فوجی انٹیلیجنس ادارے ’ایم اے ڈی‘ کے ترجمان کے مطابق  فوج کے بھرتی مراکز کو ایسے افراد کی جانب سے متعدد سوالات موصول ہوئے ہیں جو محض چند ماہ کے لیے فوج میں بھرتی ہونا چاہتے تھے۔ علاوہ ازیں اِن افراد نے فوجی اسلحے کی تربیت میں گہری دل چسپی کا اظہار کیا تھا۔

فنکے میڈیا گروپ کو جرمن خفیہ ایجنسی کی جانب سے دیے گئے ایک بیان کے مطابق سن دو ہزار چودہ میں انٹر نیٹ پر شایع کی گئی اسلامک اسٹیٹ کی ایک پوسٹ میں گروپ نے فوجی تربیت رکھنے والے افراد کو اپنی صفوں میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی اور دیگر کو اسلحے کے استعمال کی تربیت حاصل کرنے کے لیے زور دیا تھا۔

 اِس تناظر میں، اور رواں برس موسمِ گرما میں اسلامی عسکریت پسندوں کی جانب سے کیے گئے دو حملوں کے بعد جرمن سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ گزشتہ برس ایک ملین کے قریب تارکینِ وطن کی جرمنی آمد کے بعد سے یہاں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

 گزشتہ ہفتے جرمن پولیس نے برلن میں ایک شامی فرد کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم سے تعلق ہونے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔