1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن عوام کے لیے مہاجرین سب سے بڑا مسئلہ، جائزہ

ایک تازہ جائزے کے مطابق جرمنی کی نصف سے زیادہ آبادی مہاجرین اور ان کے جرمن معاشرے میں انضمام کو ملک کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتی ہے حالاں کہ نئے مہاجرین کی تعداد تو کم ہو رہی ہے۔

گزشتہ برس قریباً نو لاکھ مہاجرین مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے شورش زدہ علاقوں سے جرمنی پہنچے جو کہ اس ملک میں پناہ گزینوں کی آمد کی ایک ریکارڈ تعداد تھی۔ اس صورت حال کے پیش نظر جرمنی میں سلامتی اور مہاجرین کے انضمام سے متعلق خدشات بھی پیدا ہونا شروع ہو گئے۔

تاہم جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت و مہاجرین کے مطابق اس برس جرمنی میں پناہ کے متلاشیوں کی آمد کم  ہوئی اور اب تک یہ تعداد تین لاکھ سے کچھ زائد ہے۔ اس دفتر کو نومبر کے مہینے میں پناہ کے لیے چھبیس ہزار چار سو اڑتیس درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جو کہ ایک برس قبل موصول ہونے والی درخواستوں کے مقابلے میں نصف تھیں۔

لیکن جرمن نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف کے لیے کروائے گئے ایک جائزے کے مطابق مہاجرین کی جرمنی آمد میں کمی کے باوجود اٹھاون فیصد جرمن عوام مہاجرین اور ان کے جرمن معاشرے میں انضمام کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔

مہاجرین کے مسئلے ہی کے باعث جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مقبولیت کو بھی دھچکا لگا ہے اور مبصرین کے مطابق اگلے برس ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں چوتھی مدت کے لیے چانسلر بننا ان کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔

میرکل کی کرسچین ڈیموکریٹک یونین کو بعض ریاستی انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب مہاجرین مخالف جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور اس جماعت کے عہدے دار کئی ریاستوں کی اسمبلیوں تک پہنچ چکے ہے۔

میرکل کو بھی مہاجرین سے متعلق اپنی فراخ دلانہ پالیسیوں میں تھوڑی سختی کرنا پڑی ہے۔ ان کی جماعت نے اپنی ایک حالیہ کانگریس میں جبری شادیوں، ’غیرت‘ کے نام پر قتل اور دہری شہریت کے خلاف اپنا موقف سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مذکورہ جائزے ہی کے مطابق پچاس فیصد جرمن سمجھتے ہیں کہ میرکل مہاجرین کے حوالے سے احسن طریقے سے کام کر رہی ہیں، جب کہ پینتالیس فیصد کی رائے ہے کہ ان کا کارکردگی خراب ہے۔

جرمن حکومت ایسے مہاجرین کو ان کے ملک واپس بھیجنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے، جن کے بارے میں یہ طے ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن میں غیر محفوظ نہیں ہیں، یا پھر یہ کہ انہوں نے جرمنی کا رخ معاشی فائدے حاصل کرنے کے لیے کیا تھا۔